Quran !!!!Quran ki Nazar Sey!!!! |
Advertisement |
![]() ![]() |
|
Thread Tools | Display Modes |
|
(#1)
![]() |
|
|||
(۶۸)اس نے کہا یہ میرے مہمان ہیں ۔۶۸ تو تم لوگ میری فضیحت نہ کرو۔۶۹ (۶۹)اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔ (۷۰) انہوں نے کہا کیا ہم نے آپ کو دوسری قوموں کے لوگوں ( کو ٹھہرانے ) سے منع نہیں کیا تھا؟۷۰ (۷۱) اس نے کہا یہ میری بیٹیاں ، موجود ہیں اگر تمہیں ( جائز طریقہ اختیار) کرنا ہے ۔۷۱ (۷۲)تمہاری زندگی کی قسم یہ لوگ اپنی بدمستیوں میں اندھے ہو گئے ہیں ۔۷۲ (۷۳) بالآخر صبح ہوتے ہی ایک ہولناک آواز نے انہیں آلیا۔ (۷۴) اور ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا،اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے ۔۷۳ (۷۵) بلا شبہ اس( واقعہ) میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو فراست سے کام لیتے ہیں ۔۷۴ (۷۶)اور یہ( اجڑی ہوئی) بستی شاہراہِ عام پر واقع ہے ۔۷۵
|
Sponsored Links |
|
(#2)
![]() |
|
|||
(۷۷)یقینا اس میں ایمان رکھنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے ۔۷۶ (۷۸)اور(دیکھو)’’ ایکہ والے ‘‘ بڑے ظالم تھے ۔۷۶ (۷۹) تو ہم نے ان کو بھی سزا دی۔ اور یہ دونوں ہی بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں ۔۷۸ (۸۰)اور’’ حجر‘‘والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔۸۰ (۸۱)ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں مگر وہ روگردانی ہی کرتے رہے ۔۸۱ (۸۲)وہ پہاڑوں کو تراش کر امن و چین کے ساتھ گھر بناتے تھے ۔۸۲ (۸۳)پھر ایسا ہوا کہ( ایک دن) ان کو صبح ہوتے ہی ہولناک آواز نے آلیا۔۸۳ (۸۴)اور جو کچھ انہوں نے کمایا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔۸۴
|
(#3)
![]() |
|
|||
(۸۳)پھر ایسا ہوا کہ( ایک دن) ان کو صبح ہوتے ہی ہولناک آواز نے آلیا۔۸۳ (۸۴)اور جو کچھ انہوں نے کمایا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔۸۴ (۸۵)ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حق کی بنیادہی پر پیدا کیا ہے ۸۵ اور قیامت کی گھڑی یقینا آنے والی ہے لہٰذا خوبصورتی کے ساتھ درگذرکرو۔۸۶ (۸۶)یقینا تمہارا رب بڑاہی پیدا کرنے والا علم والا ہے ۔۸۷ (۸۷)ہم نے تمہیں سات دہرائی جانے والی آیتیں اور قرآن عظیم عطا کیا ہے ۔۸۸ (۸۸)تم اس سامانِ دنیا کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھا ہے ۸۹ اور نہ ان کی حالت پر غم کھاؤ۔۹۰ اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکادو۔۹۱ (۸۹)اور کہو میں تو کھلا خبردار کرنے والا ہوں ۔ (۹۰) ہم نے ( یہ کتاب اسی طرح اتاری ہے ) جس طرح حصے بخرے کرنے والوں پر اتاری تھی۔۹۲ (۹۱) جنہوں نے ( اپنے ) قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے ئے ۔۹۲
|
(#4)
![]() |
|
|||
(۹۲)تو تمہارے رب کی قسم۹۴ ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے ۔ (۹۳)ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے ہیں ۔۹۵ (۹۴)تو جوکچھ تمہیں حکم دیاجارہا ہے اسے علانیہ سنادو اور مشرکوں کی پرواہ نہ کرو۔۹۶ (۹۵)ان مذاق اڑانے والوں کے مقابلہ میں ہم تمہارے لیے کافی ہیں ۔ (۹۶)جنہوں نے اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بنا رکھے ہیں ۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ (۹۷)ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ کہتے ہیں ان سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے ۔۹۸ (۹۸)تو چاہئے کہ اپنے رب کی پاکی بیان کرو‘ اس کی حمد کے ساتھ اور سجدہ گزار بنو۔ (۹۹)اور اپنے رب کی عبادت۱۰۰ میں لگے رہو یہاں تک کہ وہ گھڑی آ جائے جس کا آنا یقینی ہے ۔۱۰۱
|
(#5)
![]() |
|
|||
(۹۲)تو تمہارے رب کی قسم۹۴ ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے ۔ (۹۳)ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے ہیں ۔۹۵ (۹۴)تو جوکچھ تمہیں حکم دیاجارہا ہے اسے علانیہ سنادو اور مشرکوں کی پرواہ نہ کرو۔۹۶ (۹۵)ان مذاق اڑانے والوں کے مقابلہ میں ہم تمہارے لیے کافی ہیں ۔ (۹۶)جنہوں نے اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بنا رکھے ہیں ۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ (۹۷)ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ کہتے ہیں ان سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے ۔۹۸ (۹۸)تو چاہئے کہ اپنے رب کی پاکی بیان کرو‘ اس کی حمد کے ساتھ اور سجدہ گزار بنو۔ (۹۹)اور اپنے رب کی عبادت۱۰۰ میں لگے رہو یہاں تک کہ وہ گھڑی آ جائے جس کا آنا یقینی ہے ۔۱۰۱
|
(#6)
![]() |
|
|||
تفسیر ۱ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورئہ یونس نوٹ ۱ نیز سورئہ بقرہ نوٹ ۱۔ ۲ مراد کتاب الٰہی ہے ۔ قرآن کے کتاب ہونے کے مفہوم میں درج ذیل باتیں شامل ہیں : اولاً یہ ایک مکمل کتاب ہے جس کی آیتوں اور سورتوں کی ترتیب اللہ کی طرف سہے کیونکہ کسی بھی کتاب کی ترتیب اس کا مصنف ہی قائم کرتا ہے اور اس کے منشا کے خلاف ترتیب قائم کرنے کا حق کسی کو نہیں ہوتا۔ ثانیاً یہ ضبط تحرے میں آنے والی کتاب ہے کیونکہ عربی میں کتاب کے معنیٰ لکھی ہوئی چیز کے ہیں : ثالثاً یہ ایک مربوط کتاب ہے کیونکہ کوئی بھی اہم کتاب ایسی نہیں ہوسکتی جس کے اجزا باہم مربوط نہ ہوں ۔ ۳ عربی میں قرآن کے لفظی معنیٰ پڑھنے کے ہیں ۔ کتاب الٰہی کا یہ مصدری نام اپنے اس وصف کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کتاب بار بار پڑھنے کے لائق اور بہ کثرت پڑی جانے والی ہے ۔ نزولِ وحی کا آغاز اِقرأ (پڑھ)سے ہوا تھا۔ اس مناسبت سے بھی اس کتاب کا نام قرآن موزون قرار پایا۔
|
(#7)
![]() |
|
|||
رہی اس کی صفت مبین یعنی روشن ہونا تو اس کی تشریح سورئہ یوسف نوٹ ۲ میں گزرچکی ۔ ۴ مراد موت کے گھڑی بھی ہے اور قیامت کی گھڑی بھی جب کافر دین حق سے اپنی محرومی پر پچھتائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کاش وہ اسلام کو قبول کر کے مسلمان ہو گئے ہوتے ۔ قرآن نے یہ بات دو ٹوک انداز میں لوگوں کے سامنے رکھ دی ہے تاکہ وہ مذاہب کے چکر سے نکل آئیں اور سیدھے سیدھے اسلام میں داخل ہوجائیں کہ آخرت میں نجات کی واحد راہ یہی ہے ۔ ۵ یعنی قرآن جس حق کو پیش کررہا ہے اس کو سننے اور ماننے کے لیے جو لوگ تیار نہیں ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑدو۔ کچھ دن یہ دنیا کی سرمستیوں میں مگن رہیں گے لیکن آنکھ بند ہوتے ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت کیا تھا۔ ۶ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے شدہ تھی کہ اس کو کس وقت تک مہلت دی جائے گی۔مطلب یہ کہ اللہ کے کام ٹھیک ٹھیک منصوبہ کے مطابق ہوتے ہیں ۔
|
(#8)
![]() |
|
|||
۷ یعنی کوئی قوم اللہ کے مقررہ وقت سے پہلے نہ ہلاک ہوسکتی اور نہ اس کے بعد زندہ رہ سکتی ہے ۔ ۸ منکرین پیغمبر سے کہتے تھے کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا کی طرف سے تم پر نصیحت نازل ہوئی ہے سراسر دیوانگی ہے اور وحی کی جو کیفیت تم پر طاری ہوتی ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک جنونی کیفیت ہے جس میں تم مبتلا ہو گئے ہو۔ منکرین کے اس الزام کو تاریخ نے غلط ثابت کر رکھایا کیونکہ آپ نہ صرف تاریخ ساز اور انقلابی شخصیت کی حیثیت سے ابھرے بلکہ ایک بہترین معلم اور بہترین کردار ساز انسان کی حیثیت سے آپ نے وہ نقوش چھوڑے کہ رہتی دنیا تک کے لیے آپ کی شخصیت ایک مثالی شخصیت بن گئی اور وہ کلام جس کو دیوانگی قرار دیا گیا تھا اعلیٰ درجہ کے حکیمانہ کلام کی حیثیت سے ہمارے سامنے موجود ہے ۔ کیا یہ کارنامے کسی دیوانہ شخص کے ہوسکتے ہیں ۔؟
|
(#9)
![]() |
|
|||
۹ یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتوں کو تمہارے مطالبہ پر اتار جائے تو تمہاری آزمائش کہاں باقی رہے گی۔ فرشتوں کو تو اسی وقت اتار جاتا ہے جب کہ کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہو گئی ہو اور اس کی قسمت کا فیصلہ چکا دینا ہو۔ ۱۰ یعنی قرآن کو جس سرتاسر یاد دہانی اور نصیحت ہے ہم ہی نے نازل کیا ہے ۔ یہ نہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصنیف ہے اور نہ اس میں شیطان کا یا کسی اور کا کوئی دخل ہے ۰اور یہ جو فرمایا کہ ’’ یقینا ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘‘ تو اس نے آئندہ کے لیے ضمانت دیدی کہ نہ قرآن کا کوئی حصہ ضائع ہوسکے گا اور نہ اس میں کسی قسم کی تحریف ہوسکے گی بلکہ یہ اپنے اصل الفاظ میں جوں کا توں باقی رہے گا تاکہ اس چشمہ صافی سے انسانیت فیضیاب ہوتی رہے ۔
|
(#10)
![]() |
|
|||
اور قرآن کی صداقت کا یہ واضح ثبوت ہے کہ آج قرآن لفظاً لفظاً اپنی اصل شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔ نہ صرف امت کے حفاظ اسے نسلاً بعد نسلٍ سینہ بہ سینہ نقل کرتے رہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے یہ تحریری شکل میں بھی منتقل ہوتا رہا ہے ۔ اس کا قدیم ترین نسخہ جو خلیفۂ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اور جو مصحف عثمانی کہلاتا ہے آج بھی دنیا میں موجود ہے ۔ ۱۱ یعنی جب وہ ہدایت قبول نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ گمراہی کی بات ان کے دلوں میں داخل کر دیتا ہے ۔ ۱۲ یعنی کافر قوموں کی ہلاکت کے واقعات گزرچکے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کا دستور کیا ہے ۔ ۱۳ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ صادر فرماتا کہ آسمان کا دروازہ کھل جاتا اور یہ اس میں چڑھنے لگتے تب بھی یہ ایمان نہ لاتے بلکہ اس معجزہ کی توجیہ یہ کرتے کہ اس شخص نے ہماری نظریں جادو سے مار دی ہیں اس لیے آسمان میں جو دروازہ ہمیں دکھائی دے رہا ہے وہ محض ایک شعبدہ ہے اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس شخص نے ہمارے حواس کو جادو سے اس طرح متاثر کر دیا ہے کہ ہم آسمان میں اپنے کو چڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں حالانکہ یہ سب دھوکا ہے ۔
|
![]() ![]() |
Bookmarks |
Tags |
دعوت |
|
|
![]() |
||||
Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
دعوت القرآن/سورۃ 2:البقرۃ | life | Quran | 98 | 08-13-2012 02:23 AM |
دعوت القرآن/سورۃ 1:الفاتحۃ | life | Quran | 7 | 08-13-2012 02:23 AM |
دعوت القرآن/سورۃ 7:الاعراف | life | Quran | 10 | 08-13-2012 02:12 AM |
دعوت القرآن/سورۃ 9:التوبۃ | life | Quran | 180 | 08-13-2012 02:11 AM |
دعوت القرآن/سورۃ 14:ابراہيم | life | Quran | 46 | 08-13-2012 02:08 AM |