Quran !!!!Quran ki Nazar Sey!!!! |
Advertisement |
![]() ![]() |
|
Thread Tools | Display Modes |
(#21)
![]() |
|
|||
82 ۔ اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھا تا ہے (121) اگرچہ مجرموں کو ناگوار ہو۔ (122) 83 ۔ مگر موسیٰ کی بات اس کی قوم کے کچھ نوجوانوں کے سوا کسی نے نہیں مانی فرعون اور ان کے سرداروں سے ڈرتے (123) ہوۓ کہ کہیں وہ کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے (124) واقعہیہ ہے کہ فرعون زمین میں بڑا ہی سر کش تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جو حد سے تجاوز کرتے ہیں (125) ۔ 84 ۔ اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم اللہ پر ایمان لاۓ ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر واقعی تم مسلم ہو(126)۔ 85 ۔ انہوں نے کہا ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ، اے ہمارے رب ! ہمیں ظالموں کے ظلم کا نشانہ نہ بنا(127) ۔ 86 ۔ اور اپنی رحمت کے ذریعہ ہمیں کافر قوم سے نجات دے ۔ 87 ۔ اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی (128) پر وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں چند گھر مہیا کرو (129) اور اپنے گھروں کو قبلہ بنالو(130) اور نماز قائم کرو (131) اور اھل ایمان کو خوش خبری دے دو (132) ۔
|
Sponsored Links |
|
(#22)
![]() |
|
|||
تفسیر: 1۔ یہ حروف مقطعات ہیں اور جیسا کہ ہم سورہ بقرہ نوٹ 1 میں واضح کرچکی ہیں یہ سورہ کے مخصوص مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ اس سورہ میں الف کا اشارہ اللہ کی طرف ہے بالفاظ دیگر توحید کی مضامین کی طرف ہے جو مختلف آیات میں بیان ہوۓ ہیں ۔ لام کا اشارہ لا اِلٰہٰ الا اللہ کی طرف یعنی ان مضامین کی طرف ہے جن میں شرک کی نفی کی گئی ہے ۔ اسی طرح را کا اشارہ ربوبیت کی طرف یعنی ان مضامین کی طرف ہے جن میں اللہ کی ربوبیت کا ذکر ہوا ہے مثال کے طور پر آیت 3 میں فرمایا : ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ ’’ یہی اللہ تمہارا رب ہے ‘‘ اور آیت 32 میں ارشاد ہوا : فَذَالِکُمُ اللہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ ’’تو یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے ‘‘ حروف مقطعات کے بارے میں ہم نے یہ بات جو کہی ہے کہ سورہ کے مخصوص مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ہم نے ان حروف کے کوئی معنی متعین نہیں کیے ہیں بلکہ صرف اشارات مراد لیے ہیں اور وہ بھی سورہ کے مخصوص مضامین کی طرف ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حروف مقطعات کے بارے میں یہی راہ سالمتی کی ہے کیونکہ اس صورت میں آدمی ان کی غلط تاویل سے بچ جاتا ہے اور ان کی معمہ قرار دینے سے بھی ۔
|
(#23)
![]() |
|
|||
موجودہ ٹیکنولوجی کے دور میں بعض حضرات نے جو ان حروف کو معمہ قرار دیتے ہیں ابجد کے لحاظ سے ان کے اعداد متعین کرکے کمپوٹر کے ذریعہ حسابی نکتے پیدا کیے ہیں چنانچہ انہوں نے 19 کے عدد کو نہایت اہم قرار دے کر قرآن کی آیت : عَلَیْھَا تِسْعَۃَ عَشَرَ جہنم پر 19 فرشتے مقرر ہیں ۔ (سورہ المدثر) سے استدلال کیا ہے لیکن اس استدلال کی قلعی اس طرح کھل جاتی ہے کہ قرآن میں 19 فرشتوں کا ذکر جہنم کے تعلق سے ہوا ہے لہٰذا سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ عدد باعث برکتے ہے یا باعث نکبت؟ قرآن میں دوسرے مقام پر بھی یہ ارشاد ہوا ہے کہ وَیَحْمِلُ عَرْشُ رَبِّکَ یَوْ مئِذٍ ثَمَا نِیَۃ (اس روز تمہارے رب کا عرش آٹھ فرشتے اٹھاۓ ہوۓ ہوں گے ۔ سورہ الحاقہ ) پھر آٹھ کے عدد کو کیوں نہ سب سے زیادہ اہم مان لیا جاۓ۔ واقعہ یہ ہے کہ 19 کے عدد کو بہائی مذہب میں خاص اہمیت حاصل ہے چنانچہ بہائیوں کے یہاں مہینہ دن کا ہوتا ہے اور سال 19 ماہ کا اس لیے قرآن کی آیات کو 19 کے گرد گھمانا یا حروف مقطعات سے 19 کے عدد کی اہمیت پر استدلال کرنا نہ صرف تکلف ہے بلکہ بہائی چکر نے اعداد و شمار کی بنیاد پر قیامت کی تاریخ بھی متعین کر دی ہے ۔ آغاز تو کمپیوٹر کے ذریعہ قرآن کو ایک معجزہ ثابت کرنے سے ہوا تھا لیکن ؏
|
(#24)
![]() |
|
|||
بات پہنچی قیامت تک جبکہ قرآن میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں اور یہ کہ وہ اچانک آۓ گی ۔ 2 ۔ قرآن کے حکمت بھری کتاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی دعوت ، اس کے پیش کردہ عقائد اور تاریخی واقعات کی توجیہات نیز اس کی تعلیمات سب کی جڑیں انسانی فطرت کے اندر نہایت گہری ہیں اور عقل سلیم ان کی تائید کرتی ہے ۔ قرآن کی یہ حقیقت خدا بیزار لوگوں کے اس دعوے کی تردید کرتی ہے کہ عقائد کی بنیاد عقلی جمود اور توہمات پر ہے ۔ یہ بات دوسری مذہبی کتابوں کے بارے میں صحیح ہوسکتی ہے لیکن قرآن کے بارے میں ہر گز صحیح نہیں ۔ مگر عقل کے یہ اندھے کھرے اور کھوٹے میں کوئی تمیز نہیں کرتے ۔
|
(#25)
![]() |
|
|||
3۔ اس زمانے میں لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ اللہ کی طرف سے وحی کا نزول ایک انسان پر کیسے ہوسکتا ہے اور موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے وحی کا تصور ہی ناقابل قبول بن گیا ہے مگر قرآن کا اسرار کائنات پر سے پردہ اٹھانا اور زندگی کی ان گتھیوں کو سلجھانا جن کو بڑے بڑے حکیم اور فلسفی بھی نہیں سلجھا سکے نیز انسان کی کامل رہنمائی کا سامان کرنا اور ایسی تعلیمات پیش کرنا جو نہایت معقول اور حد درجہ اعتدال پر مبنی ہیں اس کے وحی الٰہی ہونے کا بین ثبوت ہے ۔ منکرین نے وحی کے انکار میں باتیں تو بہت چھانٹی ہیں اور فلسفیانہ بحثیں بھی خوب کی ہیں مگر وہ نہ اسرار کائنات سے پردہ اٹھا سکے ہیں نہ زندگی کی گتھیوں کو سلجھا سکے ہیں اور نہ ہی انسان کی رہنمائی کا سامان کر سکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نظریہ دوسرے نظریہ کی تردید کرتا ہے اور ہر فلسفی دوستے فلسفی کی ۔ لیکن وحی الٰہی کا معاملہ ایسا ہے کہ وہ ابدی صداقتوں پر مبنی ہے اور اس کو پیش کرنے والے (انبیاء علیہم السلام ) ہمیشہ ایک ہی حقیقت کو پیش کرتے رہے ہیں اور قرآن کو پیش کرنے والا اسی سلسلے کی آخری کڑی ہے ۔ 4۔ منکرین جب دیکھتے کہ قرآن کی بلاغت کے سامنے عربی کے ممتاز ادیبوں کا کلام بھی مات کھا رہا ہے اور وہ دلوں کو مسخر کرتا چلا جارہا ہے تو اس کی کوئی توجیہ ان سے نہ بن پڑتی اس لیے وہ یہ شوشہ چھوڑتے کہ یہ الفاظ کی جادو گری ہے اور یہ شخص کلام کے شعبدے دکھا رہا ہے ۔
|
(#26)
![]() |
|
|||
5 ۔ اس کی تشریح سورہ اعراف نوٹ 82 میں گزر چکی ۔ 6 ۔ اس کی تشریح بھی سورہ اعراف نوٹ 83 میں گزر چکی ۔ 7 ۔ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو خدا کے فیصلوں میں دخل انداز ہوتی ہو یا اس سے کسی کو کچھ لازماً دلوا کر رہے یا قیامت کے دن اس کی اجازت کے بغیر کسی کی مغفرت کے لیے اس کے حضور سفارش کرے ۔ اس سے مسلمانوں میں پھیلی ہوئی اس جہالت کی بھی تردید ہوتی ہے کہ فلاں ولی ’’بگڑی بنانے والے ہیں ‘‘ اس لیے فریاد ان سے کی جاۓ اور فلاں بزرگ ہمارے گناہ بخشوا کر رہیں گے لہٰذا ’’ ان کا دامن نہیں چھوڑیں گے ‘‘ کا نعرہ لگایا جاۓ ۔ 8 ۔ یعنی جب اللہ ہی کائنات کا خالق اور اس کا فرمانروا ہے تو تمہارا رب (مالک) اس کے سوا کوئی اور کیسے ہو سکتا ہے ۔ (لفظ رب کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ فاتحہ نوٹ 4 )
|
(#27)
![]() |
|
|||
9 ۔ یعنی جب اللہ ہی تمہارا رب (مالک ) ہے تو تمہاری عبادت کا مستحق بھی وہی ہے اسی کو معبود مان کر اس کی پرستش کرو اور اس کے بندے بن کر رہو۔ (عبادت کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ فاتحہ نوٹ 7 ) ۔ 10 ۔ انسان کی جس مقصد کے لیے دوسرے زندگی عطا کی جاۓ گی اس کا یہ مثبت پہلو ہے اور یہی اصل غایت ہے یعنی اللہ اپنے وفا دار بندوں کو ان کے اعمال کی ایسی جزا دے کہ وہ نہال ہو جائیں ۔ 11 ۔ یعنی اللہ کو واحد رب مان کر اس کی عبادت کرنے کی جو دعوت قرآن پیش کر رہا ہے اس کو قبول کرنے سے جنہوں نے انکار کیا۔ 12 متن میں سورج کے لیے ’’ضیاء‘‘ اور چان کے لیے ’’نور‘‘ کے الفاظ استعمال ہوۓ ہیں جو اس فرق کو واضح کرتے ہیں کہ سورج کو تیز روشنی والا بنایا ہے اور چاند کو ٹھنڈی روشنی والا۔ 13 ۔ چاند کی منزلوں سے مراد عام مشاہدوں میں آنے والی منزلیں ہیں ۔ وہ گردش کرتا ہوا دیکھائی دیتا ہے اور اس کے گھٹنے اور بڑھنے سے مختلف شکلیں پیدا ہوجاتی ہیں جن کو اشکال قمر کہتے ہیں ۔ گویا چاند روزانہ ایک ایک منزل طے کرتا ہوا اپنا چکر پورا کرتا ہے ۔ قرآن کا استدلال مشاہدہ میں آنے والی ان ہی شکلوں سے ہے ۔
|
(#28)
![]() |
|
|||
14 ۔ چاند کی یہ شکلیں تاریخوں کے تعین کا کام دیتی ہیں ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ نوٹ 285 اور سورہ توبہ نوٹ 70 ) 15 ۔ یعنی کائنات کا یہ نظام اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ یہ کارخانہ ایک ایسی ہستی نے وجود میں لایا ہے جو نہایت حکیم اور مدبر ہے کیوں کہ اس کے ہر ہر گوشہ سے حکمت اور تدبّر کا اظہار ہو رہا ہے اور یہ بات اس کائنات کے با مقصد بیان کرتا ہے وہ اس حکمت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے جو اس کائنات میں ہر طرف جلوہ گر ہے ۔ مختصر یہ کہ کائنات کا یہ نظام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا مالک اور فرماں روا ایک دن عدالت برپا کرے گا اور اپنے وفا دار بندوں کو جزا دے گا اور سرشوں کو سزا دے گا۔ جزا و سزا کے وقوع پر یہ بہت واضح دلیل ہے اور قرآن ان دلائل کو اس لیے پیش کرتا ہے کہ لوگ سوجھ بوجھ سے کام لیں اور حقیقت تک پہنچنا ان کے لیے آسان ہو۔ اس کے با وجود موجودہ دور کے مادہ پرست اسلام اور دوسرے مذاہب میں امتیاز نہیں کرتے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ آخرت کا عقیدہ بھی نرا ’’عقیدہ ‘‘ ہے جس کی پشت پر کوئی عقلی دلیل نہیں ہے ۔ اگر یہ لوگ کھلے ذہن سے قرآن کا مطالعہ کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ قرآن جب بنیادی عقائد کو پیش کرتا ہے تو اس کا انداز استدلالی اور قلب و ذہن کو اپیل کرنے والا ہوتا ہے اس لیے اس کی راہ عقل و بصیرت کی راہ ہے ۔
|
(#29)
![]() |
|
|||
16 ۔ یعنی ان نشانیوں سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو جاہل بنے نہیں رہتے بلکہ اس علم کی روشنی میں حقیق اور جستجو کا سفر طے کرتے ہیں جو اللہ نے ان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے ۔ 17 ۔ یعنی کائنات میں پھیلی ہوئی ان نشانیوں سے وہی لوگ رہنمائی حاصل کرتے ہیں جو اپنے خالق سے ڈرتے ہیں ۔ کیوں کہ خالق کی پہچان ہر شخص کی فطرت میں ودیعت ہے اور اس کے تصور سے لازماً اس کا خوف پیدا ہوتا ہے لیکن جو لوگ اپنی فطرت اس حد تک مسخ کر چکے ہوں کہ نہیں جانتے ان کا کوئی خالق بھی ہے ان کے اندر نہ اس کا خوف پیدا ہوسکتا ہے اور نہ ان کے اندر رہنمائی قبول کرنے کی صلاحیت باقی رہتی ہے ۔ 18 ۔ موجودہ دور کے خدا بیزار لوگ اور دنیا سے بہت زیادہ مطمئن نظر آتے ہیں وہ ’’معاد‘‘ پر نہیں بلکہ ’’معاش ‘‘ پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کو اخلاقی ترقی سے دلچسپی نہیں ہوتی البتہ مادی ترقی سے بہت خوش ہوتے ہیں ۔ ان کا دماغ دنیا بھر کی معلومات کے لیے کمپیوٹر ہوتا ہے ۔ مگر ان کا دل آخرت کے معاملہ میں ایک زنگ آلود مشین ۔ ایسے لوگ اپنی خوش ’’فہمیوں ‘‘ پر بڑے نازاں ہوتے ہیں مگر کب تک؟ ۔
|
(#30)
![]() |
|
|||
19 ۔ دنیا میں آدمی جو کام بھی کرتا ہے اس کا اثر ضرور مرتب ہوتا ہے ۔ آدمی خیر کے کام کرے یا شر کے ان کے اثرات کو وہ اپنے دامن میں لازماً سمیٹتے رہتا ہے گویا یہ اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ اور کمائی قیامت کے دن نتائج کی شکل میں اس کے سامنے نمودار ہو گی۔ 20۔ یہ ایمان کا ثمرہ بیان کیا گیا ہے نہ کہ محض عقیدہ کا کیونکہ عقیدہ تو آدمی مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کی بنا پر اختیار کرتا ہے اور اس بنا پر مسلم سماج کا فرد بنا رہا تا ہے جب کے ایمان ایک ذہنی اور شعوری فیصلہ ہوتا ہے ۔ جس طرح ایک بلب اسی صورت میں روشنی دیتا ہے جبکہ اس میں برقی رو دوڑ رہی ہو اسی طرح عقیدہ اس اپنا اثر دکھاتا ہے جب کہ اس میں ایمان کی روح موجود ہو۔ عقیدہ غیبی حقیقتوں کے اقرار کا نام ہے جبکہ ایمان صحیح عقیدہ کی دل سے تصدیق اور یقین کی وہ کیفیت ہے جو انسان کے باطن کو سنوارتی اور سوچنے اور فیصلہ کرنے کی ایک خاص قوت اسے عطا کرتی ہے ۔
|
![]() ![]() |
Bookmarks |
Tags |
دعوت |
|
|
![]() |
||||
Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
دعوت القرآن/سورۃ 2:البقرۃ | life | Quran | 98 | 08-13-2012 02:23 AM |
دعوت القرآن/سورۃ 1:الفاتحۃ | life | Quran | 7 | 08-13-2012 02:23 AM |
دعوت القرآن/سورۃ 7:الاعراف | life | Quran | 10 | 08-13-2012 02:12 AM |
دعوت القرآن/سورۃ 8:الانفال | life | Quran | 90 | 08-13-2012 02:11 AM |
دعوت القرآن/سورۃ 9:التوبۃ | life | Quran | 180 | 08-13-2012 02:11 AM |