دعوت القرآن/سورۃ 14:ابراہيم - MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community

MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community

link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link | link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link| link|
MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community » Islam » Quran » دعوت القرآن/سورۃ 14:ابراہيم
Quran !!!!Quran ki Nazar Sey!!!!

Advertisement
 
 
Thread Tools Display Modes
Prev Previous Post   Next Post Next
(#1)
Old
life life is offline
 


Posts: 32,565
My Photos: ()
Country:
Star Sign:
Join Date: Aug 2008
Gender: Female
Default دعوت القرآن/سورۃ 14:ابراہيم - >>   Show Printable Version  Show Printable Version   Email this Page  Email this Page   07-02-2011, 09:12 AM

۱۴۔اِبْرَاہِیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے


نام:۔

آیت ۳۵؂ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا بیان ہوئی ہے ۔ اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام ’’ ابراہیم‘‘ ہے ۔

زمانۂ نزول:۔

مکی ہے اور مضا مین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی جبکہ ایمان لانے والوں کو سخت اذیتیں پہنچائی جارہی تھیں ۔ یہ زمانہ ہجرت حبشہ اور اس کے بعد کا ہے اور اغلب ہے کہ سورئہ رعد کے بعد یہ نازل ہوئی ہوگی۔

مرکزی مضمون:۔

یہ واضح کرتا ہے کہ رسول کو بھیجنے کا مقصد کیا ہے اور اس کے ذریعہ انسانیت پر خدا کی راہ کس طرح روشن ہو رہی ہے ۔ جو لوگ اس عظیم مقصد کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں وہ رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے ہیں اور اس کے پیرووں کو اذیتیں پہنچانے کے درپے ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہی ٹوٹ سکتا ہے اور وہ بدترین سزا ہی کے مستحق ہوسکتے ہیں ۔

نظمِ کلام:۔

آیت ۱ ؂ تا ۴؂ میں رسول اور قرآن کے بھیجنے کے مقصد واضح کیا گیا ہے آیت ۵؂ تا ۱۷؂ میں تاریخ انبیاء کے کچھ اوراق پیش کئے گئے ہیں جن سے یہ سبق ملتا ہے کہ رسول کی مخالفت کرنے والے اور ان کی راہ میں کانٹے بچھانے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں جو سزا بھگتنا ہوگی اس کی بھی ایک جھلک پیش کی گئی ہے جو رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے ۔ آیت ۱۸؂ تا ۲۳؂ میں ان کی نامرادی کا مزید حال پیش کرتے ہوئے بتایاگیا ہے کہ اہل ایمان کس طرح بامراد ہوں گے ۔ آیت ۲۴؂ تا ۳۴؂ میں ایمان اور کفر کے مختلف نتائج کو مثال کے ذریعہ واضح کیاگیا ہے ۔ کافروں کو نعمتِ خداوندی کی ناشکری پر متنبہ کیاگیا ہے اور اہل ایمان کو شکر گزاری کا طریقہ بتایا گیا ہے ۔

آیت ۳۵؂ تا ۴۱؂ میں ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا پیش کی گئی ہے جو تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔ وہ اپنی نسل کو شرک سے محفوظ اور توحید پر قائم رکھنے کے لیے ایک بے تاب دل رکھتے تھے مگر ان کی اولاد (بنی اسمٰعیل) ان کو اپنا پیشوا مانتے ہوئے آج جو کچھ کررہی ہے وہ ان کی آرزو‘ ان کی دعا اور ان کے طرز عمل کے سراسر خلاف ہے ۔آیت ۴۲؂ تا ۵۲؂ خاتمہ کلام ہے جس میں قیامت اور اس کے عذاب کا ہولناک نقشہ کھینچا گیا ہے ۔


ترجمہ:


اللہ رحمن و رحیم کے نام سے


(۱)الف۔ لام۔ را ۔ ۱؂ یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے (اے پیغمبر!) تم پر نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ ۲؂ اس کی راہ پر جو غالب بھی ہے اور خوبیوں والا بھی۳؂

(۲) اللہ کہ مالک ہے ان چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور ان چیزوں کا جو زمین میں ہیں ۔ اور تباہی ہے کافروں کے لیے کہ انہیں سخت سزا بھگتنا ہوگی۔

(۳)جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ۴؂ اور اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔۵؂ یہ لوگ پرلے درجہ کی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔

(۴)ہم نے جو رسول بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان ہی میں ( پیغام دیکر) بھیجا تاکہ وہ( اس پیغام کو) لوگوں پر اچھی طرح واضح کر دے ۔۶؂ پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔ ۷؂ وہ غالب اور حکمت والا ہے ۔

(۵)ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ اور انہیں اللہ کے یادگار دن۸؂ یاد دلاؤ۔اس میں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہے بڑی نشانیاں ہیں ۔۹؂

(۶) اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ۱۰؂ اللہ نے جو فضل تم پر کیا ہے اسے یاد رکھو جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں بری طرح تکلیف دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرڈالتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے ۔۱۱؂ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

(۷) اور جب تمہارے رب نے خبردار کیا تھا کہ اگر تم شکر کروگے تو میں تمہیں مزید دوں گا۱۲؂ اور اگر نا شکری کرو گے تو ( یاد رکھو) میری سزا بڑی سخت ہے ۱۳؂

(۸) اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور وہ سب جو روئے زمین پر ہیں نا شکری کریں تو اللہ( کو کچھ پروا نہیں ۔ وہ) بے بنیاز اور خوبیوں والا ہے ۔۱۴؂

(۹) کیا تمہیں ۱۵؂ ان لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں جو تم سے پہلے گذرچکے ہیں ؟ قوم نوح، عاد، اور ثمود اور وہ قومیں جوان کے بعد ہوئیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۱۶؂ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لیکر آئے تھے لیکن انہوں نے اپنے منہ میں اپنے ہاتھ ٹھونس لیے اور کہا جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اس سے ہمیں انکار ہے اور جس بات کی طرف تم بلاتے ہو اس میں ہمیں شک ہے جس نے ہمیں الجھن میں ڈال دیا ہے ۔

(۱۰) ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ۱۸؂ ہے ؟ وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہ بخشدے اور ایک مقررہ وقت تک مہلت دے ۱۹؂ انہو ں نے کہا تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان سے روک دو جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں ۔ اچھا تو لاؤ کوئی کھلا معجزہ۔

(۱۱)ان کے رسولوں نے کہا واقعی ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے ۲۰؂ اور یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی معجزہ لا دکھائیں ۔ ہاں اللہ کے حکم سے یہ بات ہوسکتی ہے اور ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔

(۱۲) اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ اس نے ہماری راہیں ہم پر کھول دیں ۔۲۱؂ ہم ان اذیتوں پر صبر کریں گے جو تم ہمیں دے رہے ہو۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔

(۱۳) اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے یا پھر تمہیں ہمارے مذہب میں لوٹ آنا ہوگا۲۲؂ تو ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے ۔

(۱۴) اور ان کے بعد تمہیں زمین میں بسائیں گے ۔ یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو ڈرا میرے حضور کھڑے ہونے سے اور ڈرا میری تنبیہ سے ۔

(۱۵) اور انہوں نے فیصلہ چاہا اور(فیصلہ اس طرح ہوا کہ) ہر سرکش ضدی نامراد ہوا۔۲۳؂

(۱۶) اس کے آگے جہنم ہے ۲۴؂ اور اسے پیپ لہو پلایا جائے گا۔۲۵؂

(۱۷)جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا مگر حلق سے آسانی کے ساتھ اُتار نہ سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر آئے گی مگر وہ مر نہ سکے گا۔ اور آگے ایک سخت عذاب کا اسے سامنا کرنا ہوگا۔

(۱۸) جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کہ آندھی کے دن اسے ہوا تیزی کے ساتھ لے اُڑے ۔۲۶؂ جو کچھ انہوں نے کمایا اس سے کچھ بھی ان کو حاصل نہ ہوسکے گا۔ یہی ہے پر لے درجہ کی گمراہی۔

(۱۹) کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے آسمانو ں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق لے آئے ۔۲۷؂

(۲۰)ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ دشوار نہیں ۔

(۲۱) اور( ایسا ہوگا کہ) اللہ کے حضور سب حاضر ہوں گے اس وقت کمزور لوگ ان لوگوں سے جو بڑے بن کر رہے تھے کہیں گے ہم تو تمہارے تابع تھے ۔ اب کیا تم ہم کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے کچھ کرسکتے ہو؟ وہ کہیں گے اگر اللہ نے ہم کو راہ دکھائی ہوتی تو ہم تم کو ضرور دکھاتے ۔ اب ہمارے لیے یکساں ہے خواہ چیخ پکار کریں خواہ جھیل لیں ۔ ہمارے لیے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے ۔۲۸؂

 

Reply With Quote Share on facebook
Sponsored Links
 

Bookmarks

Tags
دعوت

Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
دعوت القرآن/سورۃ 12:يوسف life Quran 155 08-13-2012 02:57 AM
دعوت القرآن/سورۃ 2:البقرۃ life Quran 98 08-13-2012 02:23 AM
دعوت القرآن/سورۃ 1:الفاتحۃ life Quran 7 08-13-2012 02:23 AM
دعوت القرآن/سورۃ 7:الاعراف life Quran 10 08-13-2012 02:12 AM
دعوت القرآن/سورۃ 9:التوبۃ life Quran 180 08-13-2012 02:11 AM


All times are GMT +5. The time now is 02:02 AM.
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.

All the logos and copyrights are the property of their respective owners. All stuff found on this site is posted by members / users and displayed here as they are believed to be in the "public domain". If you are the rightful owner of any content posted here, and object to them being displayed, please contact us and it will be removed promptly.

Nav Item BG