BaiKaar MemBer !!
|
|
Posts: 8,871
Country:
Star Sign:
Join Date: Aug 2008
Location: karachi,Pakistan
Gender:
|
|
طالبان کی نہیں پھولوں کی بات کریں

بچیاں جو پھول بیچتی ہیں اور پڑھتی ہیں
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں ایسے کئی بچے راہ چلتے مل جاتے ہیں جن کا تعلق جنگ زدہ پڑوسی ملک افغانستان سے ہے مگر ان میں پغمان کے تین گل فروش بچوں کی کہانی کچھ الگ ہی ہے۔
پھول بیچنے والے ان بچوں کا تعلق افغانستان کے کابل صوبے سے ہے مگر وہ اپنے حالات کی سنگینی کی وجہ سے اپنے وطن سے دور ہیں۔ ان بچوں میں دس سالہ عقیہ بھی شامل ہیں۔جن کے والد بقول ان کے طالبان کے ساتھ کام کرتے تھے مگر گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے اور کراچی میں علاج کے دوران فوت ہوگئے۔
عقیلہ اردو اور انگریزی زبانوں میں بھی بات کرسکتی ہیں مگر فارسی ان کی مادری زبان ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں یاد نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو دیکھا ہے مگر ان کے متعلق تمام باتیں ان کی امی انہیں سناتی رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں شہر کی تمام بڑی ہسپتالوں آغا خان اور لیاقت نیشنل سے ان کا علاج کروایا مگر وہ بچ نہ چکے۔
عقیلہ نے بتایا ہے کہ ان کی والدہ کپڑے کی ایک مقامی فیکٹری میں کام کرتی ہیں اور وہ کلفٹن میں ایک بنگلے کے چوکیدار کے کمرے میں رہتی ہیں۔ چوکیدار ان کا عزیز ہے۔ عقیلہ کے بقول رات بھر چوکیدار کمرے سے باہر رہتا ہے جب کہ دن بھر وہ ماں بیٹی اپنے کام کی وجہ سے باہر ہوتی ہیں۔
عقیلہ کے ساتھ ان کی سات سالہ کزن آمنہ اور آٹھ سالہ عبیداللہ بھی ساحل سمندر پر پھول بیچتے کرتے ہیں۔ تینوں بچوں کا تعلق کابل کے قریبی پہاڑی ضلع پغمان سے ہے۔ تینوں کراچی میں کرائے کے الگ الگ مکانوں میں رہتے ہیں مگر ایک ہی سکول میں ساتھ پڑھتے ہیں۔

ان کے خواب ویسے ہی ہیں جیسے دوسرے بچوں کے ہو سکتے ہیں لیکن ان کا راستہ شاید کچھ مشکل ہے۔
عبید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے والد افغانستان میں مارے گئے، کیسے اور کب یہ ان کو پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ پھولوں کو سجاکے رکھتی ہیں اور وہ سکول سے واپسی پر پھول لے کر ساحل سمندر پہنچ جاتے ہیں۔ رات گئے ساحل سمندر پر واقع پوش علاقے ڈیفنس ویو میں ایک جگہ پر واقع چار سنیما گھروں کے آخری شوز تک تینوں بچے اپنے پھول مختلف جوڑوں کو پیش کرتے رہتے ہیں۔تاکہ سکول کی فیس جمع کر سکیں۔
عقیلہ نے بتایا ہے کہ ان کے گھریلو اخراجات ان کی والدہ برداشت کرتی ہیں جب کہ وہ پھول فروخت کرکے اپنے سکول کی فیس جمع کرتے ہیں۔ عقیلہ کا خواب ہے کہ وہ ڈاکٹر بنے اور اپنے آبائی علاقے پغمان میں جاکر کلینک کھولے۔
آمنہ اور عبید کا کہنا تھا کہ ہفتہ وار تعطیل کے دنوں میں ان کے سکول کے ساتھی جب ساحل سمندر تفریح کے لیے آتے ہیں تو وہ ان سے چھپ جاتے ہیں۔ عبید کے بقول سکول میں کسی کو علم نہیں کہ وہ پھول بیچتے ہیں۔ عبید نے کہا، ’ایسا نہ ہو کل وہ ہم سے نفرت کریں کہ تم تو شام کو پھول بیچتے ہو‘۔
عبید

عبید کے والد افغانستان میں مارے گئے، کیسے اور کب یہ ان کو پتہ نہیں ہے۔
آمنہ اور عبید نے اپنے والدین کے بارے میں زیادہ بات کرنے سے گریز کیا اور صرف اتنا کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کی وجہ سے ان کے والد نہیں رہے اور وہ اپنی والدہ و دیگر رشتہ داروں کے ساتھ کراچی پہنچے۔ وہ طالبان کے متعلق سوالات پر خاموش ہوجاتے ہیں اور صرف اتنا کہتے ہیں کہ ’انکل ہمیں زیادہ پتہ نہیں ہیں ہم سے طالبان کی نہیں پھولوں کی بات کریں‘۔
’’بہترین کلام اللہ کا کلام ( قرآن کریم ) ہے اور بہترین ھدایت و طریقہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا لایا ھوا دین ہے ۔،
|