|
|
Posts: 32,565
Country:
Star Sign:
Join Date: Aug 2008
Gender:
|
|
اقتباس
’’ہاں یہ نیچر ہے ۔ جب تک ہم کسی رشتے کو نام نہیں دیتے ‘ وہ بے نشان ہوتا ہے ۔ تعلق اور محسوسات بھی شناخت اور ےقین چاہتے ہیں ‘‘
’’میں تقریباً ہم جماعت ساتھیوں میں تمام لڑکیوں کو اسی طرح مخاطب کرتا ہوں سر ! میری خود یہی سوچ ہے ۔“
”پرہ کو تم ادی کہا کرو بھئی ‘ وہ بچی کنفیوژن کا شکار رہتی ہے۔‘‘
”آپ اس سے پوچھیں میری بہن بننا پسند کرے گی ؟“ اس کے ہونٹوں پر شرارتی سی مسکراہٹ در آئی ۔
”تم خود پوچھو نا ! اس سے ؟“ وہ اس کو کافی حد تک سمجھ رہے تھے ۔
”میں اچھا لگوں گا پوچھتے ہوئے ‘ ویسے سر ! کوئی خوب صورت لڑکا کسی لڑکی کو بہن نہیں بنانا چاہتا !“
” پنھل ایک بات کہوں ؟“ وہ اصل بات پر آ گئے
” جی کہیں ۔“
ہر کام اپنے وقت پر اچھا لگتا ہے۔ مگر وقت کے بعد ہاتھ میں کچھ بھی نہیں رہتا ۔ دیر مت کرنا تم ۔ یاد رکھنا رقدیر بار بار موقع نہیں دیتی ‘ جب محسوس کرو ۔اس سے نرمی اور اآرام سے ایک دفعہ بات کر لو ۔“
” جی سر ۔۔۔۔۔۔! بس ذرا ڈر سا لگتا ہے کہ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
” اس کا مت سوچو پنھل! اپنی بات کرو ۔ دیکھو اگر ایسی بات ہے بی سہی تو وہ پہل ہر گز نہیں کرے گی “
” ہاں یہ بات تو ہے سر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ ان کی بات پر سوچنے لگا تو دل کو لگی
پنھل اور پرہ سے اقتباس
|