![]() |
اقتباس
اقتباس
’’ہاں یہ نیچر ہے ۔ جب تک ہم کسی رشتے کو نام نہیں دیتے ‘ وہ بے نشان ہوتا ہے ۔ تعلق اور محسوسات بھی شناخت اور ےقین چاہتے ہیں ‘‘ ’’میں تقریباً ہم جماعت ساتھیوں میں تمام لڑکیوں کو اسی طرح مخاطب کرتا ہوں سر ! میری خود یہی سوچ ہے ۔“ ”پرہ کو تم ادی کہا کرو بھئی ‘ وہ بچی کنفیوژن کا شکار رہتی ہے۔‘‘ ”آپ اس سے پوچھیں میری بہن بننا پسند کرے گی ؟“ اس کے ہونٹوں پر شرارتی سی مسکراہٹ در آئی ۔ ”تم خود پوچھو نا ! اس سے ؟“ وہ اس کو کافی حد تک سمجھ رہے تھے ۔ ”میں اچھا لگوں گا پوچھتے ہوئے ‘ ویسے سر ! کوئی خوب صورت لڑکا کسی لڑکی کو بہن نہیں بنانا چاہتا !“ ” پنھل ایک بات کہوں ؟“ وہ اصل بات پر آ گئے ” جی کہیں ۔“ ہر کام اپنے وقت پر اچھا لگتا ہے۔ مگر وقت کے بعد ہاتھ میں کچھ بھی نہیں رہتا ۔ دیر مت کرنا تم ۔ یاد رکھنا رقدیر بار بار موقع نہیں دیتی ‘ جب محسوس کرو ۔اس سے نرمی اور اآرام سے ایک دفعہ بات کر لو ۔“ ” جی سر ۔۔۔۔۔۔! بس ذرا ڈر سا لگتا ہے کہ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ ” اس کا مت سوچو پنھل! اپنی بات کرو ۔ دیکھو اگر ایسی بات ہے بی سہی تو وہ پہل ہر گز نہیں کرے گی “ ” ہاں یہ بات تو ہے سر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ ان کی بات پر سوچنے لگا تو دل کو لگی پنھل اور پرہ سے اقتباس |
Re: اقتباس
”آپ اس سے پوچھیں میری بہن بننا پسند کرے گی ؟“ اس کے ہونٹوں پر شرارتی سی مسکراہٹ در آئی ۔
”تم خود پوچھو نا ! اس سے ؟“ وہ اس کو کافی حد تک سمجھ رہے تھے ۔ ”میں اچھا لگوں گا پوچھتے ہوئے ‘ ویسے سر ! کوئی خوب صورت لڑکا کسی لڑکی کو بہن نہیں بنانا چاہتا !“ |
Re: اقتباس
very nice.....:bu:
|
Re: اقتباس
thanks king
|
All times are GMT +5. The time now is 09:03 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.