مالی امام دین بنگلے سے منسلک لان کو پائپ کے ذریعے پانی دے رھا تھا.. ڈرائیور خوشی محمد کا بیٹا فضل دور بیٹھا اسے دیکھ رھا تھا.. اچانک امام دین کی نظر اس پر پڑی.. اس نے چینخ کے کہا.. "کیوں بے! کیا دیکھ رھا ھے..؟"
فضل نے جواب دیا.. "کچھ نہیں.."
امام دین نے پائپ کو اسی طرح گھانس پہ چھوڑ دیا اور پانی کو بہتا ھوا چھوڑ کے فضل کے قریب آیا.. کہنے لگا.. "نہیں بے.. کوئی تو بات ھے تیرے دماغ میں جو تو یوں گھور رھا تھا مجھے.."
فضل نے ایک لمبی آہ بھری اور کہنے لگا.. "چاچا ! یہ تو روزانہ جتنا پانی اس لان پہ بہاتا ھے نا.. اتنا تو تھر کے علاقے میں ھمارے گاؤں میں ھمیں ایک مہینے میں بھی نصیب نہیں ہوتا.. میری ماں اور بہنیں ایک ایک میل دور سے مٹکا بھر کے آتی ھیں تب ھم پانی پیتے ھیں..
ھمارے اسکول کا ماسٹر صحیح کہتا تھا کہ الٌلہ تعالٰی نے تو ھر چیز وافر مقدار میں پیدا کی ھے.. بس یہ انسانوں کے تقسیم کے نظام کی خرابی ھے..."
امام دین نے ڈانٹے ھوئے کہا.. "بس بس ! زیادہ نہ سوچا کر.. ورنہ تجھے بھی پیر صاحب کے پاس لےجانا پڑے گا "جھڑوانے" کے لئے.. ھر وقت درخت کے نیچے بیٹھا رھتا ھے.. لگتا ھے اثر ھوگیا ھے.."
امام دین بڑبڑاتے ھوئے آگے بڑھا تو فضل نے آواز لگائی.. "چاچا..!"
امام دین نے مڑ کے دیکھا.. فضل نے کہا.. " چاچا ! کبھی ھمارے ملک کے حکمرانوں کو بھی پیر صاحب کے پاس لے جا جھڑوانے کے لئے.. تاکہ وہ وسائل کی صحیح تقسیم کریں.."