|
|
Posts: 11,221
Country:
Star Sign:
Join Date: Jul 2011
Gender:
|
|

مکان
چار مقاصد کے لئے مکان بنایا جاسکتاہے :
پہلا مقصد: "رہائش"
یعنی ایسا مکان جس میں آدمی رات گزارسکے اور اس کے ذریعہ دھوپ، بارش، سردی اور گرمی سے حفاظت ہوجائے۔اب یہ ضرورت ایک جھونپڑی کے ذریعہ بھی پوری ہوسکتی ہے ۔ اس مقصد کے تحت مکان بنانا جائز ہے۔
دوسرامقصد: "آسائش"
یعنی صرف رہائش مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ رہائش آرام اور آسائش کے ساتھ ہو۔ مثلاً جھونپڑی اور کچے مکان میں انسان جوں توں گزارہ تو کرلے گالیکن اس میں آسائش حاصل نہیں ہوگی اور آرام نہیں ملے گا۔ ہوسکتاہے کہ بارش کے اندر اس میں سے پانی ٹپکنا شروع ہوجائے اور اس میں دھوپ کی تپش بھی اندر آرہی ہے ۔ اس لئے آسائش حاصل کرنے کے لئے مکان کو پکا بنادیا تو یہ آسائش بھی جائز ہے ۔ کوئی گناہ نہیں ہے۔
تیسرا مقصد: "آرائش "
یعنی اس مکان میں سجاوٹ، آپ نے مکان تو پکا بنالیا اور اس کی وجہ سے آپ کو رہائش حاصل ہوگئی لیکن اس کی دیواروں پر پلاسٹر نہیں کیا ہے اور نہ اس پر رنگ و روغن ہے اب رہائش بھی حاصل ہے اور فی الجملہ آسائش بھی حاصل ہے۔ لیکن آرائش نہیں ہے ۔اس لئے کہ اس پر رنگ وروغن نہیں ہے۔ جب آپ اس مکان میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کی طبیعت خوش نہیں ہوتی۔ اب اپنے دل کو خوش کرنے کے لئے رنگ وروغن کرکے کچھ زیب وزینت کرلے تو یہ بھی کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی بھی اجازت ہے ۔ بشرطیکہ اپنے دل کوخوش کرنے کے لئے یہ آرائش والاکام کرے۔
چوتھا مقصد: "نمائش"
یعنی اس مکان کے ذریعہ رہائش کا مقصد بھی حاصل ہوگیا۔ آسائش اور آرائش کا مقصد بھی حاصل کرلیا۔ اب یہ دل چاہتاہے کہ اپنے مکان کو ایسا بناؤں کہ دیکھنے والے یہ کہیں کہ ہم نے فلاں شخص کا مکان دیکھا اس کو دیکھ کر اس کی خوش ذوقی کی دادینی پڑتی ہے اور اس کی مالداری کا پتہ چلتاہے ۔ اب اگر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے آدمی اپنے مکان کے اندر کوئی کاروائی کرتاہے تاکہ لوگ اس کو بڑا آدمی سمجھیں ، تاکہ لوگ اس کو دولت مند سمجھیں تاکہ لوگ اس کو اپنے سے زیادہ فوقیت والا سمجھیں تو یہ صورت" حرام "ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ:
رہائش حاصل کرنا جائز ہے
آسائش بھی جائز ہے ۔
آرائش کے حصول کے لئے کوئی کام کرنا بھی جائز ہے ۔
لیکن "نمائش " اور "دکھاوے" کے لئے کوئی کام کرنا "حرام" اور "ناجائز" ہے اور نمائش کی غرض سے جو چیز بھی حاصل کی جائے گی وہ "حرام " ہوگی۔
|