|
|
Posts: 16,486
Country:
Join Date: Aug 2010
Gender:
|
|
ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا
اُسے اب اور کیا لکھنا، اُسے اب اور کیا کہنا
یہ رسم شہر نا پرساں، ہمارے دم سے قائم ہے
کہ ہر اجنبی کو مسکرا کر آشنا کہنا
جلوس ِ دلفگاراں میں نہ کرنا بات تک لیکن
ہجوم ِ گل عذاراں میں اسے سب سے جدا کہنا
سفر میں یوں خمارِ تشنیگی آنکھوں میں بھر لینا
چمکتی ریت کو دریا، بگولے کو گھٹا کہنا
ہزاروں حادثے تجھ پر قیامت بن کے ٹوٹے ہیں
تو اس پر بھی سلامت ہے ، دل خوش فہم کیا کہنا
دل بے مدعا کو بے طلب جینے کی عادت ہے
مجھے اچھا نہیں لگتا دعا کو التجا کہنا
مرے محسن یہ آداب ِ مسافت سیکھنا ہوں گے
بھٹکتے جگنووں کو بھی سفر کا آسرا کہنا
I'M Not Really A BaD InfLuence
But IN YouR CasE I'LL MaKe n EXCETION
|