![]() |
~[ ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا ]~
ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا اُسے اب اور کیا لکھنا، اُسے اب اور کیا کہنا یہ رسم شہر نا پرساں، ہمارے دم سے قائم ہے کہ ہر اجنبی کو مسکرا کر آشنا کہنا جلوس ِ دلفگاراں میں نہ کرنا بات تک لیکن ہجوم ِ گل عذاراں میں اسے سب سے جدا کہنا سفر میں یوں خمارِ تشنیگی آنکھوں میں بھر لینا چمکتی ریت کو دریا، بگولے کو گھٹا کہنا ہزاروں حادثے تجھ پر قیامت بن کے ٹوٹے ہیں تو اس پر بھی سلامت ہے ، دل خوش فہم کیا کہنا دل بے مدعا کو بے طلب جینے کی عادت ہے مجھے اچھا نہیں لگتا دعا کو التجا کہنا مرے محسن یہ آداب ِ مسافت سیکھنا ہوں گے بھٹکتے جگنووں کو بھی سفر کا آسرا کہنا |
Re: ~[ ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا ]~
Buht Khoob
|
Re: ~[ ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا ]~
THanks Shayan ..s
|
Re: ~[ ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا ]~
good shairing
|
Re: ~[ ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا ]~
Thanks JamaL ..
|
Re: ~[ ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا ]~
V Nice
|
Re: ~[ ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا ]~
Thanks ..
|
All times are GMT +5. The time now is 08:58 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.