|
|
Posts: 32,565
Country:
Star Sign:
Join Date: Aug 2008
Gender:
|
|
اسکے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمران رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے اور سیّدہ سے ان کا حال پوچھا۔
فاطمہ الزہرا نے عرض کیا: ’’ اباجان شدّت درد سے بےچین ہوں اور بھوک نے نڈھال کر رکھا ہے کیونکہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے میری بیٹی صبر کر۔ میں بھی آج تین دن سے بھوکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگتا وہ ضرور مجھے عطا کرتا لیکن میں نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی۔‘‘
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست شفقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی پشت پر پھیرا اور فرمایا: ’’ اے لخت جگر دنیا کے مصائب سے دل شکستہ نہ ہو، تم جنّت کی عورتوں کی سردار ہو۔‘
فاطمہ الزہّرا اس فقروغنا کے ساتھ کمال درجہ کی عابدہ تھیں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی ماں کو شام سے صبح تک عبادت کرتے اور اللہ کے حضور گریہ وزاری کرتے دیکھا لیکن انہوں نے اپنی دعاؤں میں اپنے لئے کبھی کوئی درخواست نہ کی۔ ایک دفعہ سیّدہ علیل تھیں لیکن علالت میں بھی رات بھر عبادت میں مصروف رہیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کیلئے مسجد گئے تو وہ نماز کیلئے کھڑی ہو گئیں۔ نماز سے فارغ ہو کر چکی پیسنے لگیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے واپس آکر انہیں چکی پیستے دیکھا تو فرمایا: ’’اے رسول خدا کی بیٹی اتنی مشقّت نہ اٹھایا کرو، تھوڑی دیر آرام کر لیا کرو کہیں زیادہ بیمار نہ ہو جاؤ۔‘‘
|
Posting Rules
|
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts
HTML code is Off
|
|
|
All times are GMT +5. The time now is 09:02 PM.
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.