MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community
»
Islam
»
Quran
»
ریاض الصالحین
Quran !!!!Quran ki Nazar Sey!!!!
|
|
|
Posts: 32,565
Country:
Star Sign:
Join Date: Aug 2008
Gender:
|
|
حدیث نمبر اکیس (21)
عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اور یہ (عبداللہ) حضرت کعب کے بیٹے تھے اور ان کی رہنمائی کرتے تھے جب وہ (کعب) نابینا ہو گئے تھے۔ عبداللہ کہتے ہیں ۔ میں نے کعب کو اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ حضرت کعب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی جہاد کیا میں آپ سے پیچھے نہیں رہا سوائے غزوہ تبوک کے اگرچہ میں غزوہ بدر میں بھی پیچھے ر ہا تھا لیکن اس میں پیچھے رہ جانے والے کسی ایک پر بھی ناراضی کا اظہار نہیں کیا گیا تھا، اس لیے کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام قریش کے ایک قافلے کے تعاقب میں نکلے تھے حتٰی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے دشمنوں کو کسی وعدے کے بغیر ہی ایک دو سرے سے ملا دیا۔ میں عقبہ کی رات (منیٰ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب ہم نے سلام پر عہد وفا باندھا تھا۔ اور میں یہ پسند نہیں کر تا کہ میرے لیے اس (عقبہ کی را ت) کی جگہ بدر کی حاضری ہواگر چہ بدر کا چرچا لوگوں میں اس (عقبہ) سے زیادہ ہے۔ جب میں غزوہ تبوک کے مو قع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہا تھا۔ وہ واقعہ اس طرح ہے کہ میں اتنا قوی اور خوش حال کبھی نہیں تھا جتنامیں اس غزوے سے پیچھے رہ جانے کے وقت تھا، اللہ کی قسم! میرے پاس اس سے پہلے کبھی بھی دو سواریاں اکٹھی نہیں تھیں حتیٰ کہ اس غزوہ میں میرے پاس دو سواریاں تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تو اس میں کسی اور سمت کا توریہ فرماتے تھے (یعنی اصل سمت چھپاتے تھے) حتٰی کہ یہ غزوہ تبوک ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غزوہ شدید گرمی میں کیا، سفر دور دراز اور ایسے بیابان کا تھا جہاں پانی بھی کم تھا۔ اور مدمقابل بہت بڑا لشکر تھا، اس لیے آپ نے مسلمانوں کے معاملے کو ان کے سامنے واضح کردیا تاکہ وہ اس کے مطابق خوب تیاری کرلیں ۔ آپ نے سمت کا بھی تعین فرما دیا تھا۔ جہاں آپ جانا چاہتے تھے۔ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کثیر تعداد میں تھے اور کوئی ایسی کتاب یعنی رجسٹر نہیں تھا جس میں ان کے نام لکھ کر محفوظ کیے ہوتے۔ حضرت کعب بیان کرتے ہیں ۔ کہ اگر کوئی آدمی غزوے سے غائب رہتا تو وہ یہی گمان کر تا کہ وہ آپ سے مخفی رہے گا جب تک اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غزوہ اس وقت فرمایا جب پھل پک چکے تھے اور ان کا سایہ بھی خوشگوار تھا اور مجھے یہ چیزیں بڑی مرغوب تھیں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے تیاری کی، میں بھی صبح کو آتا تا کہ آپ کے ساتھ تیاری کروں لیکن میں کچھ کیے بغیر ہی واپس چلا جا تا اور اپنے دل میں کہتا: میں اس پر پوری طرح قادر ہوں جب چا ہوں گا تیاری کر لوں گا۔ پس میری یہی صور ت حا ل رہی حتیٰ کہ با قی لوگ اپنی تیاری میں مصروف رہے۔ پس ایک روز ایسا ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمان آپ کے ساتھ جہا د کے لئے روا نہ ہوگئے اور میں نے اپنی تیاری کے بارے میں کچھ بھی نہ کیا تھا۔ میں پھر صبح کو آیا اور واپس چلا گیا لیکن کوئی فیصلہ نہ کر پا یا۔ پس یہ کیفیت دراز ہو تی گئی اور صحابہ کرام تیزی سے آگے بڑھتے گئے اور جہا د کا معاملہ بھی آگے بڑھتا گیا۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں بھی سفر کا آغاز کردوں گا اور انہیں جاملوں گا، کاش! میں ایسا کرلیتا لیکن یہ میرے مقدر میں نہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چلے جانے کے بعد جب میں لوگوں کی طرف آتا تو مجھے بس وہی لوگ نظر آتے جو اپنے نفاق کی وجہ سے مطعون تھے۔ یا وہ لوگ نظر آتے جو لوگ ضعیف تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں معذور تھے۔ پس یہ صورت حال مجھے محزون ومغموم کردیتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاد نہیں فرمایا حتٰی کہ آپ تبوک پہنچ گئے، آپ تبوک میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے تو آپ نے فرمایا: "کعب بن مالک نے کیا کیا؟'' بنو سلمہ کے ایک آدمی نے کہا: "اے اللہ کے رسول! اسکی دو چادروں اور اپنے دونوں پہلوؤں کو دیکھنے نے اسے روک لیا ہے تو معاذ بن جبل نے اسے جواب دیا تم نے برا کہا، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! ہم نے تو اس میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اتنے میں آپ نے ایک سفید پوش شخص کو ریگستان سے آتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ''ابو خیشمہ ہو۔'' پس وہ ابو خشمہ انصاری ہی تھے، جنھوں نے ایک صاع کھجور صدقہ کیا تو منافقوں نے انہیں طعنہ دیا تھا۔ حضرت کعب بیان کرتے ہیں : "جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس تشریف لارہے ہیں تو مجھ پر غم طاری ہونے لگا اور میں جھوٹ کے بارے میں سوچ بچار کرنے لگا اور میں کہتا کہ میں کل آپ کی ناراضگی سے کیسے بچوں گا؟ میں نے اس بارے میں اپنے گھر کے ہر عقلمند شخص سے مدد کی درخواست کی۔ اور جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب تشریف لانے والے ہیں تو تمام باطل خیالا ت مجھ سے زائل ہو گئے حتٰی کہ میں سمجھ گیا کہ میں آپ سے اس طر ح کی کسی چیز کے ذریعے بچ نہیں سکوں گا تو پھر میں نے سچ بولنے کا پختہ ارا دہ کرلیا۔ صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپکا یہ معمول تھا کہ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں جا تے اور وہاں دو رکعتیں ادا فرماتے اور پھر لوگوں کیلئے تشریف رکھتے۔ پس جب آپ نے ایسے کرلیا تو منا فق لوگ آپ کے سامنے عذر پیش کرنے لگے اور حلف اٹھا نے لگے۔ یہ لوگ اسی (80) سے کچھ زائد تھے۔ پس آپ نے ان کے ظاہری عذر کو قبول فرمایا اور ان سے بیعت لی، ان کے لیے مغفر ت طلب کی اورانکی اندرونی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا، حتٰی کہ میں بھی حاضر خدمت ہوا۔ جب میں نے سلام کیا تو آپ مسکرائے جس طرح کوئی ناراض آدمی مسکراتا ہے، پھر آپ نے فرمایا: ''آگے آجاؤ۔ '' میں آگے بڑھا حتٰی کہ آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: ''تجھے کس چیز نے پیچھے رکھا؟ کیا تم نے اپنی سواری نہیں خریدلی تھی؟ وہ (کعب) بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کی قسم! اگر میں آپ کے علاوہ کسی اہل دنیا کی مجلس میں ہوتا تو میں کسی عذر کے ذریعے اسکی ناراضی سے بچ نکلتا، کیونکہ مجھے فصاحت و بلاغت کا بڑا ملکہ حاصل ہے۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر میں آج کسی جھوٹی بات کے ذریعے سےآپ کو راضی کر لوں تو ممکن ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو (صحیح صورت حال بتا کر) مجھ سے ناراض کردے اور اگر آپ سے سچی بات کردوں تو اس وجہ سے آپ مجھ سے ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے اس میں اللہ تعالیٰ کے اچھے انجام کی امید ہے، اللہ تعالیٰ کی قسم! میرے پاس کوئی عذر نہیں تھا، اللہ تعالیٰ کی قسم! میں کبھی اتنا طاقتور اور خوشحال نہیں تھا، جتنا اس وقت تھا، جب میں آپ سے پیچھے رہا۔" وہ (کعب) بیان کرتے ہیں ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس شخص نے سچ کہا ہے۔ پس تم یہاں سے کھڑے ہو جاؤ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں فیصلہ فرمادے۔ (میں اٹھ کر چلا گیا تو) بنو سلمہ کے کچھ لوگ میرے پیچھے پیچھے آئے اور انھوں نے مجھے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں معلوم نہیں کہ آپ نے اس سے پہلے کوئی گناہ کیا ہو، تم اس چیز سے عاجز تھے کہ تم بھی غزوے سے پیچھے رہ جانے والوں کی طرح کوئی عذر پیش کردیتے اور تمہارے گناہ کی معافی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار کافی تھا۔ وہ (کعب) بیان کرتے ہیں ۔ کہ ان لوگوں نے مجھے اس قدر شدید ملامت کی کہ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دربارہ حاضر ہو کر اپنے پہلے بیان کی تکذیب کردوں ۔ پھر میں نے اس سے پوچھا: کہ میرے جیسا معاملہ کسی اور کے ساتھ بھی پیش آیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں اسی طرح کے معاملہ میں تمہارے ساتھ دو آدمی اور بھی ہیں ، انھوں نے بھی ایسے ہی کہا جیسے تم نے کہا اور انہیں بھی وہی کچھ کہا گیا ہے جو تمہیں کہا گیا ہے۔ میں نے کہا وہ دو کون ہیں ؟ انھوں نے کہا: مرارہ بن ربیع العمری اور ہلال بن امیہ الواقفی۔ انھوں نے میرے سامنے جن دو آدمیوں کا ذکر کیا وہ نیک تھے، دونوں بدر میں شریک ہوئے تھے اور ان دونوں میں میرے لیے نمونہ تھا، پس جب انھوں نے میرے سامنے ان دونوں کا ذکر کیا تو میں اپنے سا بقہ مو قف پر قا ئم رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو پیچھے رہ جانے والوں میں سے خصوصاً ہم تینوں سے کلام کرنے سے منع کردیا۔ وہ (کعب) بیان کرتے ہیں کہ لوگ ہم سے کنارہ کش ہو گئے یا یوں فرمایا کہ لوگ ہمارے لیے بیگانے سے ہو گئے حتٰی کہ مجھے تو زمین بھی غیر مانوس سی معلوم ہونے لگی اور میرے لیے یہ زمین بھی وہ نہیں رہی تھی۔ جسے میں پہچانتا تھا۔ پس ہم نے اسی کیفیت میں پچاس راتیں گزاریں ۔ میرے جو دوسرے ساتھی تھے وہ تو ہمت ہار بیٹھے اور گھروں میں بیٹھے روتے رہے جبکہ میں ان سے جوان اور قوی تھا۔ پس میں گھر سے باہر نکلتا، مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہو تا، بازار وں میں چکر لگاتا لیکن صورت حال یہ تھی کہ مجھ سے کوئی بھی کلام نہ کرتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو تا جب آپ نماز کے بعد تشریف فرما ہوتے تو آپ کو سلام کر تا اور اپنے دل میں سوچتا کیا آپ سلام کے جواب میں اپنے مبارک لبوں کوحرکت دیتے ہیں یا نہیں ؟ پھر میں آپ کے قریب ہی نماز پڑھتا اور دُزدیدہ نظر وں سے آپ کو دیکھتا، پس جب میں اپنی نماز میں متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ کی طرف التفات کرتا تو آپ مجھ سے اعراض فرمالیتے حتیٰ کہ جب مسلمانوں کی بے رخی میرے ساتھ لمبی ہوتی گئی۔ تو میں ایک روز ابو قتادہ کے با غ کی دیوار پھاند کر اندر چلا گیا، وہ میرے چچا زاد اور تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب تھے، میں نے انہیں سلام کیا لیکن اللہ کی قسم! انھوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، میں نے کہا: "اے ابو قتادہ! میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تم میرے بارے میں نہیں جانتے، کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ؟ وہ خاموش رہا، میں نے دوبارہ قسم دے کر پوچھا تو وہ پھر بھی خاموش رہا 'میں نے تیسری بار پھر قسم دے کر پوچھا تو اس نے صرف اتنا کہا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ پس میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، میں واپس مڑا اور دیوار پھاند کر باہر چلا آیا، میں مدینے کے بازار میں جارہا تھا کہ میں نے اہل شام کے نبطیوں میں سے ایک نبطی کو جو مدینے میں غلہ بیچنے کے لیے آیا تھا، یہ کہتے ہوئے سنا کہ کعب بن مالک کے بارے میں مجھے کون بتائے گا؟ لوگ میری طرف اشارہ کرنے لگے، حتیٰ کہ وہ میرے پاس آگیا اور شاہِ غسان کا ایک خط مجھے دیا، میں چونکہ پڑھا لکھا تھا اور اس لیے اسے فوراً پڑھا۔ اس میں لکھا ہوا تھا: "امابعد! ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تم پر ظلم کیا ہے۔ حالانکہ اللہ نے تمہیں ذلت اورحق تلفی والے گھر میں رہنے کے لیے نہیں بنایا، پس تم ہمارے پاس آجاؤ، ہم تم سے پوری ہمدردی کریں گے۔ میں نے جس وقت اسے پڑھا تو میں نے کہا یہ ایک اور آزمائش ہے۔ میں نے فو راً اسے تنور میں جھونک کر جلا دیا حتیٰ کہ جب پچاس میں سے چالیس دن گزر گئے اور (میرے بارے میں ) کوئی وحی بھی نہ آئی تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد آیا، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اپنی بیوی سے علیحدگی اختیارکرنے کا حکم فرماتے ہیں ۔ میں نے کہا: اسے طلاق دے دوں یا کیا کر وں ؟ اس نے کہا: نہیں ! بلکہ اس سے علیحدگی اختیار کرلو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔ میرے ان دونوں ساتھیوں کو بھی آپ نے یہی پیغام بھجوایا۔ پس میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کافیصلہ فرما دے۔ ہلا ل بن امیہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہلال تو بہت بو ڑھا آدمی ہے، اس کا کوئی خادم بھی نہیں ، اگر میں ان کی خدمت کروں تو کیا آپ ناپسند فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''نہیں ، لیکن وہ تم سے قربت (جماع) نہ کرے۔'' اسکی بیوی نے کہا: "اللہ کی قسم! اس میں تو کسی چیز کی طرف حرکت کرنے کی طاقت ہی نہیں ۔ اور اللہ کی قسم! جس دن سے یہ واقعہ ہوا ہے، اس دن سے لے کر آج کے دن تک وہ تو رو رہا ہے۔" پس میرے بعض گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ تم بھی اپنی بیوی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر لو جیسا کہ آپ نے ہلا ل بن امیہ کی بیوی کو انکی خدمت کرنے کی اجازت عطا فرما دی ہے۔ میں نے کہا: میں اس بارے میں رسول اللہ سے اجازت طلب نہیں کروں گا معلوم نہیں جب میں آپ سے اجازت طلب کروں توآپ کیا جواب دیں گے، کیونکہ میں تو نوجوان آدمی ہوں
|
Posting Rules
|
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts
HTML code is Off
|
|
|
All times are GMT +5. The time now is 03:30 AM.
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.