Quran !!!!Quran ki Nazar Sey!!!! |
Advertisement |
![]() ![]() |
|
Thread Tools | Display Modes |
(#1)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
ریاض الصالحین باب 70سے 65 باب 65 موت کو یاد رکھنے اور خواہشات کم کرنے کا بیان اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''ہر جاندار نے موت کا مزہ چکھنا ہے اور قیامت والے دن تمہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پس جو دوزخ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ یقیناً کامیاب ہوگیا اور دنیوی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔'' (سورة آل عمران :185) اور فرمایا: ''کوئی جاندار نہیں جانتا کہ کل کو کیا کرے گا اور کسی جاندار کو پتا نہیں کہ وہ کون سی زمین میں مرے گا۔'' (سورة لقمان:34) اور فرمایا: ''اے ایمان والو! تمہیں تمہارے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا پس یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ اور جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کر و، پہلے اس سے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے اور وہ کہے: اے رب! تو نے مجھے تھوڑے دنوں کی مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرلیتا اور نیکو کاروں میں سے ہوجاتا؟ اور جب کسی کا وقت مقرر آجائے تو اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔'' (سورة المنافقون: 9۔11) اور فرمایا: ''یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی ایک کو موت آئے تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ جس کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں جاکر نیک عمل کروں۔ (یاد رکھو) ہرگز ایسا نہیں ہوگا یہ صرف ایک بات ہی ہے جسے وہ کہے گا اور ان کے درمیان ایک آڑ ہے قیامت کے دن تک۔ پس جب صور پھونکا جائے گا اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں رہے گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ پس جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے پس یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا اور یہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے چہروں کو آگ جھلستی ہو گی اور ان میں وہ (شدت تکلیف سے) تیوری چڑھاتے ہوں گے۔ (ان سے کہا جائیگا) کیا تم پر میری آیتیں پڑھی نہ جاتی تھیں پس تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ ۔ آگے آیات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ۔۔۔۔ زمین میں کتنے برس رہے؟ وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ پس تو گنتی کرنے والے (فرشتوں) سے پوچھ لے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تم واقعی تھوڑا ہی رہے اگر تم جانتے ہوتے۔ کیا تم نے یہ گمان کیا تھا کہ ہم نے تمہیں (بے مقصد) بے کار پیدا کیا؟ اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟'' (سورةالمومنون :99۔115) نیز فرمایا: ''کیا ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیاکہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد میں جھک جائیں اور اس (قرآن وحدیث) کے لیے جھک جائیں جو اللہ تعالیٰ نے حق نازل فرمایا اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی پس ان پر زمانہ دراز ہوگیا تو ان کے دل سخت ہوگئے اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔'' (سورة الحدید:16) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
|
Sponsored Links |
|
(#2)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
حدیث نمبر 574 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑا اور فرمایا: ''تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم اجنبی اور پردیسی ہو یا جیسے راہ گیر ہو۔'' حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب تم صبح کرو تو پھر شام کا انتظار نہ کر و اور اپنی صحت کے زمانہ میں اپنی بیماری کے لیے اور اپنی زندگی میں اپنی موت کے لیے تیاری کرلو۔ (بخاری) توثیق الحدیث حدیث نمبر (471) ملاحظہ فرمائیں۔
|
(#3)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
حدیث نمبر 575 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کسی مسلمان شخص کے لیے جس کے پاس وصیت کے قابل کوئی چیز ہو یہ جائز نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی اس حالت میں گزارے کہ اس کے پاس وصیت لکھی ہوئی نہ ہو۔'' (متفق علیہ) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ وہ تین راتیں گزارے۔'' (یعنی بخاری میں دو راتیں ہیں اور مسلم میں تین) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے تو مجھ پر کوئی ایک رات ایسی نہیں گزری کہ میرے پاس میری وصیت لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔ توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (3555۔فتح)، و مسلم (1627)، والروایہ الثانیة عند مسلم (1627)(4) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
|
(#4)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
حدیث نمبر 576 حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لکیریں کھینچیں اور پھر (ایک لکیر کی طرف اشارہ کر کے) فرمایا: ''یہ انسان ہے (یعنی اس کی آرزوئیں) اور (دوسری لکیر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) یہ اس کی موت ہے پس انسان انہی آرزوؤں کے درمیان ہو تا ہے کہ سب سے قریب کی لکیر (یعنی موت) آ پہنچتی ہے''۔ (بخاری) توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (2361۔فتح)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
|
(#5)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
حدیث نمبر 577 حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مربع کا خط کھینچا اور پھر اس کے وسط میں ایک خط کھینچا جو اس سے باہر نکل رہا تھا اور پھر درمیانی خط کے پہلو میں چند چھوٹے خط کھینچے اور پھر فرمایا: ''یہ انسان ہے اور (مربع) خط جس نے اسے گھیر رکھا ہے یہ اسکی موت ہے (یعنی موت نے اسے گھیر رکھا ہے) اور باہر نکلنے والا خط اس کی آرزوئیں ہیں اور چھوٹے چھوٹے خط اسے پیش آنے والے عوارض و حادثات ہیں۔ اگر ایک حادثہ اس سے خطا کر جاتا ہے تو دوسرا اسے آ دبوچتا ہے۔ اور اگر اس دوسرے سے بچ نکلتاہے تو کوئی اورحادثہ اسے آن پکڑتا ہے۔'' (بخاری) توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (2351،236۔فتح)
|
(#6)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
حدیث نمبر 578 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سات چیزوں کے ظہو ر پذیر ہونے سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرلو کیا تم بھلا دینے والے فقر کا انتظار کر رہے ہو؟ یا سرکش بنا دینے والی دولت مندی کا؟ یا بگاڑ دینے والی بیماری کا؟ یا عقل کو زائل کردینے والے بڑھاپے؟ یا تیزی سے اور اچانک آجانے والی موت کا؟ یا دجال کا؟ پس وہ تو بدترین غائب چیز ہے جس کا انتطار کیا جارہا ہے۔ یا قیامت کا؟ پس قیامت تو نہایت خوفناک اور بہت تلخ ہے۔'' (ترمذی۔ حدیث حسن ہے) توثیق الحدیث کے لیے حدیث نمبر (93) ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
|
(#7)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
حدیث نمبر 579 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''لذتیں زائل اور ختم کردینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔'' (ترمذی۔ حدیث حسن ہے) توثیق الحدیث:صحیح لغیرہ: أخرجہ الترمذی (2307)، و ابن ماجہ (4258)، والنسائی(44)، و أحمد (2922۔293) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
|
(#8)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
حدیث نمبر 580 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تہجد کے لیے) کھڑے ہوجاتے اور فرماتے: "اے لوگوں! اللہ تعالیٰ کو یاد کر و، لرزا دینے والی (نفخۂ اولیٰ ) اور اس کے پیچھے آنے والی (نفخۂ ثانیہ) آپہنچی اور موت بھی اپنی ہولناکیوں سمیت آپہنچی اور موت بھی اپنی ہولناکیوں سمیت آپہنچی"۔ حضرت ابی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں پس میں اپنی دعا میں آپ پر درود کے لیے کتنا وقت مقرر کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جتنا تم چاہو۔'' میں نے کہا (پوری دعا کا) چوتھا حصہ؟'' آپ نے فرمایا: ''جتنا تم چاہو۔'' اگر تم زیادہ کرلو گے تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔'' میں نے کہا (دعا کا) آدھا وقت؟ آپ نے فرمایا: ''جتنا تم چاہو اگر تم زیادہ کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہے۔'' میں نے عرض کیا: دو تہائی کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ''جتنا تم چاہو، اگر تم زیادہ کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہے۔ پھر میں نے عرض کیا: کیا میں اپنی دعاؤں کا پورا وقت آپ پر درود کے لیے مقرر کردوں؟ آپ نے فرمایا: ''پھر تو یہ عمل تمہارے غموں کے مداوے کے لیے کافی ہوگا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردیے جائیں گے۔ (ترمذی۔ حدیث حسن ہے) توثیق الحدیث: شطرہ الأول ضعیف وشطرہ الأخیر حسن لغیرہ: أخرجہ الترمذی (2457)، و أحمد (1365)۔ اس حدیث کا پہلا حصہ امام حاکم (3084) اور ابو نعیم (8 377) نے بیان کیا ہے اور یہ عبداللہ بن محمد بن عقیل طالبی کے سوئے حفظ کی وجہ سے ضعیف ہے اور دوسرا حصہ ((قلت یا رسول اللہ! انی أکثر الصلوة۔ ۔۔۔)) اس کاشاہد قاضی اسماعیل بن اسحاق نے ''فضل الصلوٰة علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم (13)'' میں بیان کیا ہے۔ اس کی سند مرسل ہے۔ پس دوسرا حصہ انس کی وجہ سے حسن کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ واللہ اعلم!
|
(#9)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ باب 66 مَردوں کے لیے قبروں کی زیارت کرنا مستحب ہے۔ نیز زیارت کرنے والا کیا پڑھے؟ حدیث نمبر 581 حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا پس اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔'' (مسلم) توثیق الحدیث: أخرجہ مسلم (977) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
|
(#10)
![]() |
|
|||
![]() ![]() ![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ حدیث نمبر 582 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ہاں باری ہوتی تو آپ رات کے آخری حصے میں بقیع (قبرستان) تشریف لے جاتے اور وہاں یہ دعا پڑھتے: "السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤمِنينَ، وأَتَاكُمْ ما تُوعَدُونَ،غَداًمُؤَجَّلُ ونَ، وإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الغَرْقَدِ" ترجمہ: ''اے مسلمان بستی والو! تمہیں سلام ہو، تمہارے پاس وہ کل آگیا جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع غرقد والوں کو بخش دے۔'' (مسلم) توثیق الحدیث: أخرجہ مسلم (974) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
|
![]() ![]() |
Bookmarks |
Tags |
اور, بیا, موت, کا, کرنے, کم, کو, یاد |
|
|
![]() |
||||
Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
دانتوں کا زیادہ ایکسرے جان لیوا ٹیومر کا ب | ROSE | Health & Care | 5 | 05-30-2013 09:14 PM |
آنکھوں کو اشکبار اور دامن کو تر کیا | ROSE | Miscellaneous/Mix Poetry | 4 | 08-03-2012 01:32 PM |
ہ وقت تمکو یادہوگاجب انکوکافروں نےگھر سےن | ROSE | Quran | 2 | 07-06-2012 10:24 PM |
شادی کے بعد حسن کا نکھار ختم ہو گیا | ROSE | Funny Poetry | 6 | 08-24-2011 04:29 PM |
آنکھوں کو اشکبار اور دامن کو تر کیا | ROSE | Miscellaneous/Mix Poetry | 2 | 07-02-2011 06:52 AM |