Urdu Literature !Share About Urdu Literature Here ! |
Advertisement |
![]() ![]() |
|
Thread Tools | Display Modes |
(#1)
![]() |
|
|||
اس نے منہ اٹھا کر میری طرف دیکھا ۔میری آنکھوں سے آنسوں کا سیلاب امڈ رہا تھا ۔اس نے اپنے جامنی رنگ کے ڈوپٹے کے پلو سے میرے آنسو پونچھے اور بے حد غیر جذباتی انداز میں اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا ،اس ملک میں ہر شخص اپنے کام میں مصروف ہوتا ہے ،اس لئے میرے جنازے پر کسی کو نہ بلانا ۔یہاں پر تم ہو ،ثاقب ہے،خالد ہے ،زہرہ ہے ،آپا عابدہ ہیں ،خالد کے گھر چند مسلمان ڈاکٹر دوست ہیں ۔۔۔۔۔بس اتنا کافی ہے ! اب میں سنبھل کر بیٹھ گیا ، بزنس آخر بزنس ہے۔ میں نے کہا ،جرمنی سے تنویر احمد خاں اور پیرس سے نسیم انور بیگ شائد آجائیں۔ان کے متعلق کیا حکم ہے ؟؟؟؟؟؟ وہ آجائیں تو ضرور آجائیں ، اس نے اجازت دے دی ۔وہ بھی تو اپنے ہی لوگ ہیں،لیکن پاکستان سے کوئی نہ آئے !!!!!! وہ کیوں ؟؟؟؟ میں نے پوچھا ۔ وہ بولی ، ایک دو عزیز جو استطاعت رکھتے ہیں ضرور آجائیں گے لیکن دوسرے بہت سے عزیز جن میں آنے کی تڑپ تو ہے لیکن آنہیں سکتے ،خواہ مخواہ ندامت سی محسوس کریں گے ۔ ٹھیک ہے ناں ؟؟؟؟ میڈم ! آپ کا اشارہ سر آنکھوں پر ! میں نے جھوٹی ہنسی سے کہا ۔ اور کوئی ہدایت ؟؟؟؟؟؟ میری قبر کے کتبے پر لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ضرور لکھوانا ۔ ضرور ۔۔۔۔۔ ! میں نے کہا۔ کوئی حکم۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟ ہاں ! ایک عرض اور ہے ! ۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں کے ناخن بھی خود کاٹنا سیکھ لو ۔دیکھو اس چھوٹی سی عمر میں ثاقب کیسی خوبی سے اپنے ناخن کاٹ لیتا ہے ! تم سے اتنا بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ اٹھی اپنا پرس کھولا ،ایک چھوٹی سی قینچی نکالی اور بولی لا ، آج میں پھر تمہارے ناخن تراش دوں ۔ اس نے میرے ناخن کاٹے ۔اس آخری خدمت گزاری کے بعد وہ میرے گلے میں بانہیں ڈال کر بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے میرے بالوں میں کنگھی کرنے لگی ۔مجھے اچھا تو بڑا لگا ،کیونکہ اس سے پہلے ہم برسرِعام اس طرح کبھی نہ بیٹھے تھے لیکن اس کی باتوں میں الوداعیت کا جو پیغام چھلک رہا تھا اس نے مجھے بے تاب کردیا۔ میں نے کہا ! میڈم اٹھو !!!!! ہمارے ارد گرد جو بے شمار بچے کھیل کود رہے ہیں ،وہ کیا سمجھیں گے کہ یہ بڈھا بڈھی کس طرح کی عاشقی میں مبتلا ہورہے ہیں ؟؟؟؟ !!!!!! وہ چمک کر اٹھ بیٹھی اور حسبِ دستور مسکرا کر بولی ،یہ لوگ یہی سمجھیں گے ناکہ کوئی بوالہواس بوڑھا کسی چوکھری کو پھانس لایا ہے ۔کبھی تم نے آئینے میں اپنی صورت دیکھی ہے ؟؟؟؟ ہاں ! روز ہی دیکھتا ہوں ، میں نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے میرے بالوں میں اپنی انگلیوں سے آخری بار کنگھی کی اور بولی " تمہارے بال کتنے سفید ہورہے ہیں ۔میں نے اتنی بار کہا ہے کہ مہینے میں کم از کم ایک بار کلر شیمپو کیا کرو لیکن تم میری کوئی بات نہیں مانتے ۔ شہاب نامہ سے اقتباس
|
Sponsored Links |
|
(#2)
![]() |
|
|||
اپنے ہاتھوں کے ناخن بھی خود کاٹنا سیکھ لو ۔دیکھو اس چھوٹی سی عمر میں ثاقب کیسی خوبی سے اپنے ناخن کاٹ لیتا ہے ! تم سے اتنا بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ اٹھی اپنا پرس کھولا ،ایک چھوٹی سی قینچی نکالی اور بولی لا ، آج میں پھر تمہارے ناخن تراش دوں ۔ اس نے میرے ناخن کاٹے ۔اس آخری خدمت گزاری کے بعد وہ میرے گلے میں بانہیں ڈال کر بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے میرے بالوں میں کنگھی کرنے لگی ۔مجھے اچھا تو بڑا لگا ،کیونکہ اس سے پہلے ہم برسرِعام اس طرح کبھی نہ بیٹھے تھے لیکن اس کی باتوں میں الوداعیت کا جو پیغام چھلک رہا تھا اس نے مجھے بے تاب کردیا۔ میں نے کہا ! میڈم اٹھو !!!!! ہمارے ارد گرد جو بے شمار بچے کھیل کود رہے ہیں ،وہ کیا سمجھیں گے کہ یہ بڈھا بڈھی کس طرح کی عاشقی میں مبتلا ہورہے ہیں ؟؟؟؟ !!!!!! وہ چمک کر اٹھ بیٹھی اور حسبِ دستور مسکرا کر بولی ،یہ لوگ یہی سمجھیں گے ناکہ کوئی بوالہواس بوڑھا کسی چوکھری کو پھانس لایا ہے ۔کبھی تم نے آئینے میں اپنی صورت دیکھی ہے ؟؟؟؟ ہاں ! روز ہی دیکھتا ہوں ، میں نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے میرے بالوں میں اپنی انگلیوں سے آخری بار کنگھی کی اور بولی " تمہارے بال کتنے سفید ہورہے ہیں ۔میں نے اتنی بار کہا ہے کہ مہینے میں کم از کم ایک بار کلر شیمپو کیا کرو لیکن تم میری کوئی بات نہیں مانتے ۔ شہاب نامہ سے اقتباس
|
(#3)
![]() |
|
|||
|
(#4)
![]() |
|
|||
|
(#5)
![]() |
|
|||
|
(#6)
![]() |
|
|||
|
![]() ![]() |
Bookmarks |
Tags |
سے, شہاب, نامہ |
|
|
![]() |
||||
Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
محبت...بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سے اقتب | life | Urdu Literature | 4 | 08-23-2012 10:46 PM |
محبت دہرائے جانے والا سبق نہیں | life | Urdu Writing Poetry | 3 | 08-17-2012 09:17 PM |
پیشاب کرتے وقت سلام کا جواب نہیں دینا چاہی | ROSE | Hadees Shareef | 6 | 07-14-2012 10:12 AM |
اشفاق احمد کے ناول بابا صاحبا سے اقتباس | !~*SOoLi | Urdu Literature | 5 | 06-07-2012 02:44 AM |
~[ وہ عِشق جو ہم سے رُوٹھ گیا، اب اس کا حال بتا | CaReLeSs | Urdu Writing Poetry | 4 | 12-04-2011 07:25 PM |