Urdu Writing Poetry Share Poetry in Urdu Writing |
Advertisement |
![]() ![]() |
|
Thread Tools | Display Modes |
(#1)
![]() |
|
|||
[IMG][/IMG] چاندنی، جھیل نہ شبنم نہ کنول میں ہوگا اب تیرا عکس فقط اپنی غزل میں ہوگا اور اک سانس کو جینے کی تمنا کر لیں ایک لمحہ تو ابھی دشتِ اَجل میں ہوگا راکھ ماضی کی کُریدو، نہ پَلٹ کر دیکھو آج کا دن بھی ہُوا گُم، تو وہ کل میں ہوگا کیوں کسی موڑ پہ رُک رُک کے صدا دیں اُس کو وہ تو مصروف مُصافت کے عمل میں ہوگا جس سے منسوب ہے تقدیر ِ دو عالم کا مزاج وہ ستارہ بھی تیری ظلف کے بَل میں ہوگا ہجر والو! وہ عدالت بھی قیامت ہوگی فیصلہ ایک صدی کا، جہاں پًل میں ہوگا اُس کو نیندوں کے نگر میں نہ بساؤ محسن ورنہ شامل وہی نیندوں کے خلل میں ہوگا ![]()
![]() نیلگوں فضاؤں میں شور ہے بپا دل میں شدتوں کے موسم کی چاہتیں سوا دل میں حبس ہے بھرا دل میں میں اداس گلیوں کی اک اداس باسی ہوں بادلوں کے پردے سے واہموں کو ڈھکتی ہوں خوشبوئیں گلابوں کے جسم سے نکلتی ہیں روشنی کی امیدیں کونپلوں پہ چلتی ہیں پھر بہار آنے سے پہلے ٹوٹ جاتی ہیں چوڑیاں بھی ہاتھوں میں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں جسم کے شگوفوں میں رنگ چھوڑ جاتی ہیں بس سنہرے لہجےکی روشنی ہے لو جیسی ہونٹ سے پرے دل میں کام کی دعا ایسی کس کو یہ خبر لیکن اِس سنہرے لہجے میں کھارے کھارے پانی سا بدگمانیوں سے پُر |
Sponsored Links |
|
(#2)
![]() |
|
|||
|
(#3)
![]() |
|
|||
|
(#4)
![]() |
|
|||
THanaks LIFE
![]() نیلگوں فضاؤں میں شور ہے بپا دل میں شدتوں کے موسم کی چاہتیں سوا دل میں حبس ہے بھرا دل میں میں اداس گلیوں کی اک اداس باسی ہوں بادلوں کے پردے سے واہموں کو ڈھکتی ہوں خوشبوئیں گلابوں کے جسم سے نکلتی ہیں روشنی کی امیدیں کونپلوں پہ چلتی ہیں پھر بہار آنے سے پہلے ٹوٹ جاتی ہیں چوڑیاں بھی ہاتھوں میں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں جسم کے شگوفوں میں رنگ چھوڑ جاتی ہیں بس سنہرے لہجےکی روشنی ہے لو جیسی ہونٹ سے پرے دل میں کام کی دعا ایسی کس کو یہ خبر لیکن اِس سنہرے لہجے میں کھارے کھارے پانی سا بدگمانیوں سے پُر |
(#5)
![]() |
|
|||
Thanks Shayan
![]() نیلگوں فضاؤں میں شور ہے بپا دل میں شدتوں کے موسم کی چاہتیں سوا دل میں حبس ہے بھرا دل میں میں اداس گلیوں کی اک اداس باسی ہوں بادلوں کے پردے سے واہموں کو ڈھکتی ہوں خوشبوئیں گلابوں کے جسم سے نکلتی ہیں روشنی کی امیدیں کونپلوں پہ چلتی ہیں پھر بہار آنے سے پہلے ٹوٹ جاتی ہیں چوڑیاں بھی ہاتھوں میں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں جسم کے شگوفوں میں رنگ چھوڑ جاتی ہیں بس سنہرے لہجےکی روشنی ہے لو جیسی ہونٹ سے پرے دل میں کام کی دعا ایسی کس کو یہ خبر لیکن اِس سنہرے لہجے میں کھارے کھارے پانی سا بدگمانیوں سے پُر |
![]() ![]() |
Bookmarks |
Tags |
chandni, jheel |
|
|
![]() |
||||
Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
En Jheel Si Gehri Ankhun Me !! | SHAYAN | Image Poetry | 15 | 08-24-2011 09:57 AM |
~!Jheel Si Gehri Ankhein!~ | SHAYAN | Image Poetry | 12 | 08-24-2011 04:32 AM |
en jheel si gehri ankho mai | FAJAAN | Image Poetry | 10 | 10-07-2010 07:16 PM |
~**jheel kinare ja bathen**~ | FarazAli | Miscellaneous/Mix Poetry | 7 | 07-10-2010 05:22 PM |
~*~* jheel kinare ja bethe~*~*~ | Dashing Ahsan | Miscellaneous/Mix Poetry | 4 | 07-22-2009 05:12 PM |