|
|
Posts: 7,688
Country:
Join Date: Jul 2010
Location: PAKISTAN
Gender:
|
|
آگ کا دريا
سفر ميں راہ کہ آشوب سے نا ڈر جانا
ملے جو آگ کا دريا تو پار کر جانا
يہ اک اشارہ ہے آفت ناگہاني کا
کسي جگہ سے پرندوں کا کوچ کر جانا
يہ انتقام ہے دشت بلا سے بادل کا
سمندروں پہ برستے ہوئے گزر جانا
تمہارا قرب بھي دوري کا استعارہ ہے
کہ جيسے چاند کا طلب ميں اتر جانا
ہم اپنے عشق کي اب اور کيا شہادت ديں
ہميں ہمارے رقيبوں نے معتبر جانا
ميرے يقين کو بڑا بدگمان کر کے گيا
دعا نيم شبي تيرا بےاثر جانا
ہمارے دم سے ًہي آوارگي شب تھي ہميں
عجيب لگتا ہے اب شام ًہي سے گھر جانا
زمانہ بيت گيا ترک عشق کو " تشنہ "
مگر گيا نا ہمارا ادھر ادھر جانا
|