|
|
Posts: 58,917
Country:
Join Date: Aug 2009
Gender:
|
|
اُس کو بھی بچانا ہے، خود کو بھی بچانا ہے
اک سمت ہے ذات اپنی، اک سمت زمانہ ہے
ہم سے نہ کوئی اُلجھے، ہم لوگ ہیں دیوانے
آندھی سے ہمیں ضد ہے، اک دیپ جلانا ہے
ہم دونوں کو بانٹا ہے، دریا کے کناروں نے
اس سمت بھی رہنا ہے، اُس سمت بھی جانا ہے
یہ عشق تو فطرت ہے، کیسے ہو جُدا مُجھ سے
یہ روگ ہے مٹی کا اور صدیوں پُرانا ہے
بستی ہی چھُپالی پھر، اُس شخص نے ہاتھوں میں
اتنا جو کہا میں نے، اک شہر بسانا ہے
اک آنکھ ہے صحرا تو، اک آنکھ سمندر ہے
کیا جانیئے اس دل میں کس کس کو سمانا ہے
کہنے کو بہت کُچھ ہے، اے "سعد" مگر ہم نے
اک وعدہ نبھانا ہے، اک درد چھُپانا ہے

|