تمہارا شہر کیسا ھے
وہ سؤرج جو تمہارے پاس آ کر جگمگاتا ھے
ؤہ کیسا ھے
وہ چندا جو تمہاری سیج پر تارے سجاتا ھے
وہ کیسا ھے
وہ رستہ جو تمہارے گھر کو جاتا ھے
وہ کیسا ھے
تمہارا شہر کیسا ھے
وہ کرنیں جو تیرا آنگن سجاتی ھیں
وہ کیسی ھیں
ھوائیں جو تجھے چھو کر ستاتی ھیں
وہ کیسی ھیں
وہ راتیں جو تجھے لوری سناتی ھیں
وہ کیسی ھیں
تمہارا شہر کیسا ھے
تمہارے شہر کی جتنی فضائیں جتنے رستے ھیں
وہ کیسے ھیں
تمہارے شہر میں جتنے سجیلے لوگ بستے ھیں
وہ کیسے ھیں
تمہارے شہر کے سب پھول اور تارے جو ھنستے ھیں
وہ کیسے ھیں
تمہارا شہر کیسا ھے
سنا ھے پھول بھی اس شہر میں مرجھائے رھتے ھیں
ستارے سہمے رہتے ھیں چمن کملائے رھتے ھیں
سنا ھے اب تو چندا کی بھی لو تھراتی رھتی ھے
سنا ھے اب تو سورج سے لہو کی باس آتی ھے
سبھی چہروں کو نفرت اور ڈر نے یوں سجایا ھے
کہ سارے شہر پر جیسے کوئی آسیب چھایا ھے
شاعر: فرحت عباس شاہ
Post By :King Of Hearts
آہ کو چاہئیے اک عمر اثر ہونے تک



!
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
Last edited by King Of Heart; 07-20-2014 at 06:01 PM..