|
|
Posts: 32,565
Country:
Star Sign:
Join Date: Aug 2008
Gender:
|
|
اور انبیاء کرام کے بارے میں یہی اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے۔ ارشاد ہے:
وَكَذَلِكَ نُرِي اِبْرَاھِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ
اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمان و زمین کا نطام سلطنت دکھلایا،اور تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو۔
سورہ الانعام: 75
اور موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:
لِنُرِيَكَ مِنْ آيَاتِنَا الْكُبْرَى
ترجمہ: تاکہ ہم تمہیں اپنی کچھ بڑی نشانیاں دکھلائیں۔
سورۃ طٰہ: 23
پھر ان نشانیوں کے دکھلانے کا جو مقصود تھا اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد " وَلیَکُونَ مِنَ اَلموُقنِینَ" (تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو) کے ذریعے واضح فرمادیا۔چنانچہ جب انبیاء کرام کے علوم کو اس طرح کے مشاہدات کی سند حاصل ہو جاتی تھی تو انہیں عین الیقین کا وہ مقام حاصل ہو جاتا تھا جس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ " شنیدہ کے بود مانند دیدہ" اور یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام اللہ کی راہ میں ایسی ایسی مشکلات جھیل لیتے تھے جنہیں کوئی اور جھیل ہی نہیں سکتا۔درحقیقت انکی نگاہوں میں دنیا کی ساری قوتیں مل کر بھی مچھر کے پر کے برابر حیثیت نہیں رکھتی تھیں اسی لئے وہ ان قوتوں کی طرف سے ہونے والی سختیوں اور ایذا رسانیوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔
|