|
|
Posts: 32,565
Country:
Star Sign:
Join Date: Aug 2008
Gender:
|
|
اپنے ہاتھوں کے ناخن بھی خود کاٹنا سیکھ لو ۔دیکھو اس چھوٹی سی عمر میں ثاقب کیسی خوبی سے اپنے ناخن کاٹ لیتا ہے ! تم سے اتنا بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ اٹھی اپنا پرس کھولا ،ایک چھوٹی سی قینچی نکالی اور بولی لا ، آج میں پھر تمہارے ناخن تراش دوں ۔
اس نے میرے ناخن کاٹے ۔اس آخری خدمت گزاری کے بعد وہ میرے گلے میں بانہیں ڈال کر بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے میرے بالوں میں کنگھی کرنے لگی ۔مجھے اچھا تو بڑا لگا ،کیونکہ اس سے پہلے ہم برسرِعام اس طرح کبھی نہ بیٹھے تھے لیکن اس کی باتوں میں الوداعیت کا جو پیغام چھلک رہا تھا اس نے مجھے بے تاب کردیا۔
میں نے کہا ! میڈم اٹھو !!!!! ہمارے ارد گرد جو بے شمار بچے کھیل کود رہے ہیں ،وہ کیا سمجھیں گے کہ یہ بڈھا بڈھی کس طرح کی عاشقی میں مبتلا ہورہے ہیں ؟؟؟؟ !!!!!!
وہ چمک کر اٹھ بیٹھی اور حسبِ دستور مسکرا کر بولی ،یہ لوگ یہی سمجھیں گے ناکہ کوئی بوالہواس بوڑھا کسی چوکھری کو پھانس لایا ہے ۔کبھی تم نے آئینے میں اپنی صورت دیکھی ہے ؟؟؟؟
ہاں ! روز ہی دیکھتا ہوں ، میں نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے میرے بالوں میں اپنی انگلیوں سے آخری بار کنگھی کی اور بولی " تمہارے بال کتنے سفید ہورہے ہیں ۔میں نے اتنی بار کہا ہے کہ مہینے میں کم از کم ایک بار کلر شیمپو کیا کرو لیکن تم میری کوئی بات نہیں مانتے ۔
شہاب نامہ سے اقتباس
|