MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community - View Single Post - Read online Urdu novel-Abhi-Aik Kahawab baqaihaا-Nighat seema
View Single Post
(#10)
Old
Zafina's Avatar
Zafina Zafina is offline
 


Posts: 16,987
My Photos: ()
Country:
Star Sign:
Join Date: Dec 2009
Location: Islamabad
Gender: Female
Default Re: Read online Urdu novel-Abhi-Aik Kahawab baqaihaا-Nighat seema - >>   Show Printable Version  Show Printable Version   Email this Page  Email this Page   08-01-2012, 12:18 AM


وہ چار سال بعد آئی تھی پھر بھی چھوٹی امی کی پیشانی پر اسے دیکھ کر پہلے کی طرح ہی شکنیں پڑ گئی تھیں۔ جب وہ ذرا سمجھ دار ہوئی تھی تو اس نے ان کے سامنے آنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ ان کا موڈ اسے دیکھ کر خراب ہو جاتا تھا۔ آج بھی ان کا موڈ بہت خراب لگ رہا تھا۔
’’آج میرے ٹیوٹر کے بھائی کی شادی ہے۔ انہوں نے نہیں آنا۔‘‘
انوشہ نے پھر ریموٹ اٹھا لیا اور اب مختلف چینل بدل بدل کر دیکھ رہی تھی۔ اس کا پورا دھیان ٹی وی کی طرف تھا اور وہ قریب بیٹھی ایلیا سے بے خبر ہو گئی تھی۔ حالانکہ ایلیا کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس سے باتیں کرے۔
تو کیا وہ اٹھ کر باہر لان میں جائے؟۔۔۔۔۔ اُس نے سوچا۔ لیکن پیٹ میں پھر اینٹھن ہوئی۔ نہیں، چائے پی لوں۔
چھوٹی امی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئیں تو وہ کچن میں آ گئی۔بوا کباب تل رہی تھیں۔ سموسوں کا پیکٹ نکال کر رکھا ہوا تھا۔
’’بس بوا! صرف کباب ہی رہنے دیں۔ اور چائے بنا دیں۔‘‘ اُس نے مڑ کر فریج کو دیکھا، وہ اپنی پرانی جگہ پر ہی تھا۔ فریج سے اس نے ڈبل روٹی نکالی اور سادہ سلائس میں گرم گرم کباب رکھا۔
’’اے لو بٹیا!۔۔۔۔۔ کیچپ تو لیلو۔‘‘
’’نہیں بوا!۔۔۔۔۔ بس چائے بنا دیں۔‘‘ اس نے وہاں ہی کھڑے کھڑے دو کباب اور دو سلائس کھا لئے اور کائونٹر سے ٹیک لگا کر کھڑی چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے بوا سے باتیں کرنے لگی۔
’’بوا! آپ کچن میں اکیلی ہیں کیا؟۔۔۔۔۔ مونا (منیر) چلا گیا؟‘‘
’’اسے کہاں جانا تھا؟۔۔۔۔۔ موا چھٹی پر گیا ہے چار دن کی۔‘‘
’’اچھا۔۔۔۔۔ وہ ابھی تک یہاں ہی ہے۔ تب تو کہتا تھا، کسی فوجی کے گھر جائے گا، کک بنے گا کسی آرمی والے کا۔‘‘
’’بس گپیں مارتا تھا۔ کہاں جانا تھا اسے۔ اچھی بھلی نوکری کون چھوڑتا ہے؟ اور پھر اتنا سا تو تھا جب اس گھر میں آیا تھا۔‘‘
منیر کچن میں بوا کے ساتھ ان کی مدد کرتا تھا۔ کھانا لگا دیا، چائے گرم کر دی، ٹیبل سمیٹ دی وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔ چھوٹے بھیا اُسے مونا کہہ کر بلاتے تھے تو وہ بہت چڑچڑ کرتا تھا۔
’’چھوٹے بھیا! بس، کہہ رہا ہوں۔ مونا تو لڑکوں کا نام ہوتا ہے۔ ہمیں آئندہ مت کہئے گا۔‘‘
لیکن چھوٹے بھیا کہتے۔
’’وہ بھی تو مونا ہی ہے نا، وہی جو صبح صبح سلام کرنے آتی ہے اور تالی بجا کر پیسے مانگتی ہے۔‘‘
وہ مزید چڑتا تھا۔ لیکن اس کے چڑنے کا کچھ اثر نہیں ہوا تھا۔ سب ہی اسے مونا کہنے لگے تھے اب۔
’’اور صفائی کرنے کون آتا ہے؟۔۔۔۔۔ وہی ستاراں یا کوئی اور؟‘‘
’’لو، ستاراں کے میاں نے تو دوسری شادی کر لی تھی۔ اور اسے گائوں واپس بھیج دیا تھا۔‘‘ بوا نے بتایا۔ ’’اب تو ایک لڑکی آتی ہے، چھیما باہر کی صفائی کے لئے۔ لان اور گیراج وہی کرتی ہے۔ اندر اسی چھیما کی بھرجائی آتی ہے ریباں۔ کپڑے بھی وہی دھوتی ہے۔‘‘
’’اور بوا! کبھی مجھے بھی کسی نے یاد کیا؟‘‘ اس نے خالی پیالی کائونٹر پر رکھی۔
’’لو، کب یاد نہیں کیا میں نے۔ ارے بٹیا! تمہیں چلنے تک تو میں نے ہی سنبھالا۔ تمہاری اماں تو بیمار پڑ گئی تھیں ایک دم۔ دل کی بیماری تو انہیں تب ہی لگ گئی تھی۔‘‘ بوا دوپٹے سے آنکھیں پونچھنے لگیں۔
’’بوا! کسی اور نے؟‘‘ اس نے دھیمے سے پوچھا۔
’’لو، اور کس نے یاد کرنا ہے بچی! اپنی ماں نہ رہے تو باپ بھی پرایا ہو جاتا ہے۔ ہر کوئی تیری ماں جیساتو نہیں ہوتا کہ۔۔۔۔۔‘‘ بوا کچھ کہتے کہتے چپ کر گئیں۔
’’اللہ بخشے تیری ماں بڑی ہمدرد تھی۔ بہت ہی نرم دل۔ ہر ایک کی عزت کرتی تھی۔ ہم نوکروں کا بھی احترام کرتی تھی۔ اللہ جنت میں جگہ دے۔
’’امی۔۔۔۔۔!‘‘

 




And Your Lord Never Forget