MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community - View Single Post - Read online Urdu novel-Abhi-Aik Kahawab baqaihaا-Nighat seema
View Single Post
(#7)
Old
Zafina's Avatar
Zafina Zafina is offline
 


Posts: 16,987
My Photos: ()
Country:
Star Sign:
Join Date: Dec 2009
Location: Islamabad
Gender: Female
Default Re: Read online Urdu novel-Abhi-Aik Kahawab baqaihaا-Nighat seema - >>   Show Printable Version  Show Printable Version   Email this Page  Email this Page   08-01-2012, 12:17 AM


ڈھولکی منگوائی تھی کہ کچھ تو پتہ چلے کہ اس گھر میں شادی ہو رہی ہے۔ چھوٹی امی انوشہ کا ہاتھ تھامے لائونج میں حیران سی کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی تھیں اور چھوٹی بھابی انہیں دیکھ کر بھی انجان بنی ہوئی تھیں۔
’’یہ ڈھولکی کس خوشی میں بجائی جا رہی ہے؟‘‘
’’شادی ہو رہی ہے۔‘‘
’’کس کی؟۔۔۔۔۔ کیا اپنے میاں کی کروا رہی ہو؟‘‘
’’میرا میاں بے چارہ ایک ہی کر کے رچ گیا ہے۔‘‘ چھوٹی بھابی بہت موڈ میں تھیں۔ چھوٹے بھیا نے کل ہی انہیں کنگن بنوا ک دیئے تھے۔
’’ایلی کی شادی ہے۔‘‘ شابی بھابی نے بالآخر ان کا تجسّس دور کیا تھا۔
’’ایلی کی؟۔۔۔۔۔ لیکن ایسی کیا جلدی تھی اسفند کو؟۔۔۔۔۔ کہا تو تھا میں نے، زری کی بیوی کا چالیسواں ہو جائے تو رخصتی کریں گے۔ لوگ کیا کہیں گے بیوی کا چالیسواں بھی نہیں ہوا اور دوسری لے آیا۔‘‘
’’لیکن چھوٹی امی! ایلی کی شادی آپ کے خالہ زاد بھائی زریاب خان سے نہیں بلکہ آفتاب انکل کے بیٹے سے ہو رہی ہے۔‘‘
ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
’’اور وہ جو زریاب خان کو میں نے زبان دی تھی؟‘‘
’’زریاب خان کو زبان دیتے آپ کو انوشہ کا خیال نہیں آیا تھا؟۔۔۔۔۔ ایلی بھی انوشہ جیسی ہی ہے۔ کیا انوشہ کی شادی آپ ساٹھ سالہ بڈھے سے کر سکتی ہیں؟‘‘
بڑے بھیا کم بولتے تھے لیکن جب بولتے تھے تو چھوٹی امی بول نہیں پاتی تھیں ان کے سامنے۔
’’اتنا ظلم نہ کیجئے چھوٹی امی! کہ آسمان بھی رو پڑے۔‘‘
میں تو ساکت بیٹھی تھی۔ اگر آفتاب انکل مجھے ابی جان سے نہ مان لیتے تو۔۔۔۔۔ زریاب خان کے تصور سے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ ایک بار دیکھاتھا میں نے اُسے جب وہ چھوٹی امی سے ملنے آیا تھا۔
امی اس وقت تو چپ کر گئی تھیں۔ لیکن بعد میں ابی جان سے خوب لڑی تھیں۔ لیکن ابی جان نے ان کی لڑائی کی پرواہ نہیں کی تھی اور میں ایاز ملک کی دلہن بن کر ساہیوال آ گئی تھی۔
ساہیوال میں آفتاب انکل کی حویلی اتنی بڑی تھی، اتنے سارے ملازم تھے۔ انکل اور آنٹی بہت چاہتے تھے مجھے۔ لیکن ایاز ملک بہت اُکھڑا اُکھڑا سا رہتا تھا۔ کچھ ناراض اور خفا خفا سا۔ شادی کے صرف پندرہ دن بعد وہ یہاں آ گیا تھا اور میں ادھر حویلی میں ہی رہی۔
پھر چار ماہ بعد اس نے مجھے یہاں بلا لیا اور یہاں آتے ہی پہلی رات اس نے مجھ سے کہہ دیا کہ میں اس پر مسلط کی گئی ہوں اور وہ اپنے ڈیڈ کی وجہ سے یہ گلے پڑا ڈھول بجانے پر مجبورہے۔ ورنہ وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے۔‘‘
نینا عادل نے بہت خاموشی سے اس کی ساری بات سنی تھی اور تاسف سے اسے دیکھا۔
’’یہ سب تمہاری اسٹیپ مدر کی سازش لگتی ہے۔ انہوں نے یقینا تمہارے فادر کو تمہارے خلاف ورغلایا ہو گا اور وہ تمہاری شادی زریاب خان سے کرنے لگے ہوں گے۔ اور بالکل فلمی انداز میں چچا جان نے انٹری دے کر تمہیں اس خونخوار شخص سے بچا لیا اور اپنے شہزادے کے لئے مانگ لیا۔ یہ الگ بات کہ یہ شہزادہ تمہارے لئے ولن ثابت ہو رہا ہے۔‘‘
نینا عادل ہنسی تھی۔ لیکن وہ ہنس بھی نہیں سکی تھی۔
’’کیا ایسا نہیں ہو سکتا نینا عادل! کہ میں یہاں ہی رہ جائوں؟۔۔۔۔۔ کہیں جاب کر لوں؟۔۔۔۔۔ ایاز ملک سے دور کہیں۔۔۔۔۔؟‘‘
’’نہیں میری جان!۔۔۔۔۔ اکیلی لڑکی ہر جگہ غیر محفوظ ہے۔ میں تمہیں کیا بتائوں، میں نے کیا کیا نہیں سہا۔ وہاں ورجینیا میں سیٹل تھی میں۔ تنخواہ بھی یہاں سے زیادہ تھی۔ لیکن پھر میرا باس میرے پیچھے پڑ گیا۔ مجھ دو بچوں کی ماں کے پیچھے۔ یہاں بڑی عجب دنیا ہے ایلیا!۔۔۔۔۔ وہاں پاکستان میں تمہارے لئے تحفظ ہے۔ وہاں تمہارے بھائی ہیں۔ سگے بھائی۔ ایاز میرا سگا بھائی نہیں ہے لیکن پھر بھی بھائی ہی سمجھا ہے اسے۔ میں نے اسے بتایا اپنے باس کے متعلق۔ اس نے کہا میں فوراً واشنگٹن آ جائوں۔ پھر اس نے میری جاب اور اس اپارٹمنٹ کا انتظام کیا۔ تمہارے ساتھ وہ جیسا بھی ہے، میرا تو بھائی ہے۔ احترام کرتا ہے میرا اور مجھ سے بھائیوں جیسی محبت کرتا ہے۔ تم نے ایک ہی حویلی میں بچپن کے دن گزارے ہیں، اکٹھے۔ تمہارے لئے بہتر

 




And Your Lord Never Forget