|
|
Posts: 52,341
Country:
Star Sign:
Join Date: Dec 2009
Location: RAWALPINDI
Gender:
|
|
سکوں کے دن سے فراغت کی رات سے بھی گئے
تجھے گنوا کے بھری کائنات سے بھی گئے
جُدا ہُوئے تھے مگر دِل کبھی نہ ٹوٹا تھا
خفا ہُوئے تو تیرے التفات سے بھی گئے
چلے تو نیلؔ کی گہرائیاں تھیں آنکھوں میں
پلٹ کے آئے تو موجِ فرات سے بھی گئے
خیال تھا کہ تجھے پا کے خود کو ڈھونڈیں گے
تُو مل گیا ہے تو خود اپنی ذات سے بھی گئے
بچھڑ کے خط بھی نہ لکھے اُداس یاروں نے
کبھی کبھی کی ادھوری سی بات سے بھی گئے
وہ شاخ شاخ لچکتے ہُوئے بدن محسنؔ
مجھے تو مل نہ سکے تیرے ہات سے بھی گئے؟
Kabhi zindagi me kisik liay mut rona**
q k vo''tumhare ansoun k kabil nahi ho ga''
or ''vo'' jo is ''kabil'' ho ga vo tumhe ''rone'' nahi de ga''*****
|