باہر جانے کا وقت ہو گیا ! ‘‘
کسان ضبط نہ کر سکا ، بے اختیار رونے لگا ۔ اپنی نئی بیاہی ہوئی بیوی کی طرف دیکھا جو ایک کونے میں بیٹھی اسے بے انتہا نفرت سے گھور رہی تھی ۔ اسے وہ دن یاد آ گئے ۔ جب بیلوں کے لئے ایک علیحدہ ملازم ہوتا تھا اور پھر جب کریم کی ماں چل بسی، تو ملازم کو نکال دیا گیا اور بیل کریم کے آگے لگا دیئے گئے، اسے اپنی ساری زندگی پر اندھیرا ہی اندھیرا چھایا ہوا دکھائی دینے لگا ۔ وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا کہ وقتی مسّرتوں کے سیلاب میں اس کی اوّلیں محبت اور خاندانی غیرت کا فولادی قلعہ جڑ سے اکھڑ کر بہہ گیا تھا !
وہ روزانہ صبح وشام کوّے کے لئے دانہ پانی لے جاتا اور پھر کریم کے پاس بیٹھا رہتا کوئی تیمار دار آتا اسے کہتا ۔ ’’ بلا ناغہ صبح حکیم جی آتے ہیں، دوا لگا جاتے ہیں ، لیکن کریم کی حالت گرتی جاتی ہے ۔ حکیم جی کہتے ہیں کہ روزانہ کوئی اس کے زخموں کو چھیڑ دیتا ہے ۔ ‘‘
تیماردار کہتا ۔’’ کروٹ بدلنے سے کچے زخم چھل جاتے ہوں گے ۔ ‘‘
مگر اس کی تسلی نہ ہوتی !