![]() |
جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو
خواب کے پھولوں کی تعبیریں پرانی ہو گئیں خون ٹھنڈا پڑ گیا، آنکھیں پرانی ہو گئیں جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو اس کی تصویریں بھی اوراقِ خزانی ہو گئیں دل بھر آیا کاغذ خالی کی صورت کو دیکھ کر جن کو کہنا تھا وہ سب باتیں زبانی ہو گئیں جو مقدر میں تھا اس کو روکنا تو بس میں نہ تھا ان کا کیا کرتے جو باتیں نا گہانی ہو گئیں رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ رفتگاں پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں |
Re: جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو
gooood
|
Re: جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو
nyc sharing
|
Re: جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو
thanks pakeeza siso
|
Re: جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو
thanks sara siso
|
Re: جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو
very nyc......:bu:
|
Re: جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو
thanks king...
|
All times are GMT +5. The time now is 12:47 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.