![]() |
سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھی بہت خیال رکھا تھا ، بہت وفا کی تھی سنا ہے ان دنوں ہم رنگ ہیں بہار اور آگ یہ آگ پھول ہو میں نے بہت دعا کی تھی ... نہیں تھا قرب میں بھی کچھ مگر یہ دل ، مرا دل مجھے نہ چھوڑ ، بہت التجا کی تھی سفر میں کشمکش مرگ و زیست کے دوران نجانے کس نے مجھے زندگی عطا کی تھی سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو یہ اور بات کہ اک خلق اشتراکی تھی یہ ابتدا تھی کہ میں نے اسے پکارا تھا وہ آ گیا تھا ظفر، اس نے انتہا کی تھی |
Re: سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
:bu:__
|
Re: سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
thanks...
|
Re: سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
Zaberdast
|
Re: سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
thanks........
|
Re: سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
bohat umda g
|
Re: سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
very nyc......:bu:..:zabardast:
|
Re: سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
thanks Atta
|
Re: سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
thanks king..
|
All times are GMT +5. The time now is 10:22 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.