![]() |
مرا مقصد یہاں رکنا نہیں
یونہی اس عشق میں اتنا گوارا کر لیا جائے کسی پچھلی محبت کو دوبارہ کر لیا جائے شجر کی ٹہنیوں کے پاس آنے سے ذرا پہلے دعا کی چھاؤں میں کچھ پل گزارا کر لیا جائے ہمارا مسئلہ ہے مشورے سے اب بہت آگے کسی دن احتیاطاً استخارا کر لیا جائے مرا مقصد یہاں رکنا نہیں بس اتنا سوچا ہے سفر سے پیشتر اس کا نظارا کر لیا جائے حوالے کر کے اپنا جسم اک دن تیز لہروں کے پھر اس کے بعد دریا سے کنارا کر لیا جائے ندیمؔ اس شہر میں مانوس گلیاں بھی بہت سی ہیں اور اب آئے ہیں تو ان کا نظارا کر لیا جائے |
Re: مرا مقصد یہاں رکنا نہیں
wah!
bhout umda |
Re: مرا مقصد یہاں رکنا نہیں
good one
|
Re: مرا مقصد یہاں رکنا نہیں
thanks mahi siso
|
Re: مرا مقصد یہاں رکنا نہیں
thanks shaam
|
Re: مرا مقصد یہاں رکنا نہیں
V Nice
|
Re: مرا مقصد یہاں رکنا نہیں
thanks shayan
|
Re: مرا مقصد یہاں رکنا نہیں
enjoyed the whole ghazal !! love it
|
All times are GMT +5. The time now is 08:24 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.