![]() |
مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
تجھے ہے مشق ستم کا ملال ویسے ہی ہماری جان تھی، جان پر وبال ویسے ہی چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا سو آ گیا ہے تمھارا خیال ویسے ہی ہم آ گئے ہیں تہہ دام تو نصیب اپنا ورنہ اس نے تو پھینکا تھا جال ویسے ہی میں روکنا ہی نہیں چاہتا تھا وار اس کا گری نہیں میرے ہاتھوں سے ڈھال ویسے ہی مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا فراز اس نے بھی پوچھا تھا حال ویسے ہی http://i48.tinypic.com/107q1b6.jpg |
Re: مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
Buht Khoob
|
Re: مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
thanks...
|
Re: مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
Nice sharing
|
Re: مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
Nice Sharing........
|
All times are GMT +5. The time now is 05:54 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.