![]() |
بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس
انسان کو خالق نے اس طور پر بنایا ہے کہ اسکا وجود تو ایک ہے لیکن اسکی سائیکی ،سرشت،عقل،قلب جانے کیا" کیا کچھ کئی رنگ کے ہیں۔وہ کسی کے ساتھ شیر ہے کسی کے ساتھ بکری،کسی کے ساتھ سانپ بن کر رہتا ہے تو کسی کے لیئے کینچوے سے بد تر ہے۔بدی اور نیکی روز ِ اول سے اسکے اندر دو پانیوں کی طرح رہتی ہیں،ساتھ ساتھ،ملی جُلی علیحدہ علیحدہ جیسے دل کے تیسرے خانے میں گندہ اور صاف خون ساتھ ساتھ چلتا ہے۔۔۔وہ ہمیشہ ڈھلتا ہے ،ہمیشہ بدلتا ہے،کہیں قیام نہیں،کہیں قرار نہیں۔۔۔وہ ایک زندگی میں ایک وجود میں ایک عمر میں لاتعداد روحیں ان گنت تجربات اور بے حساب نشو نما کا حامل ہوتا ہے،اس لیئے افراد مرتے ہیں انسان مسلسل رہتا ہے۔۔۔۔ہم اس تہہ در تہہ کو نہیں سمجھ سکتے،ہمیں انسان کی پرت کھولنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔۔۔وہ رزق حرام سے دیوانہ ہو کہ تضاد سے،عشق لاحاصل سے کہ تلاش بے سُود سے،ہم جسکی سرشت کو نہیں سمجھ سکتے ".اسکی دیوانگی کا بھید ہم پر کیا کھُلے گا ~بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس~ |
Re: بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس
how true
nysh sharing :) |
Re: بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس
Bilkul! Insaan Ki Hakeekat yehi hay!
Pasandeedgi ka Shukriya! :) |
Re: بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس
buhat khoob..
|
Re: بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس
Great...............
|
Re: بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس
Quote:
Quote:
|
Re: بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس
Hmm,Qabil e Tareef Alfaz Hain.Haqeeqat sy buhut qareeb. Thanks for Sharing such Paragraph :) |
Re: بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس
Quote:
|
All times are GMT +5. The time now is 07:11 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.