![]() |
~ عشق ~ میر تقی میر ~
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق جان کا روگ ہے بلا ہے عشق درد ہی خود ہے خود دوا ہے عشق شیخ کیا جانے تُو کہ کیا ہے عشق عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق عشق معشوق، عشق عاشق ہے یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق عشق ہے طرز و طور، عشق کے تئیں کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق کون مقصد کو عشق بن پہنچا آرزو عشق و مدّعا ہے عشق کوئی خواہاں نہیں محبت کا تو کہے جنسِ ناروا ہے عشق تو نہ ہووے تو نظمِ کُل اٹھ جائے سچے ہیں شاعراں خدا ہے عشق میر جی زرد ہوتے جاتے ہیں کیا کہیں تُم نے بھی کیا ہے عشق؟ |
Re: ~ عشق ~ میر تقی میر ~
superb
|
Re: ~ عشق ~ میر تقی میر ~
boht khoob.
|
Re: ~ عشق ~ میر تقی میر ~
just the last stanza (y)
|
Re: ~ عشق ~ میر تقی میر ~
Kia haqiqat kahon k kia hai IshQ
haq shanason ka Khuda hai IshQ IshQ sy jaah nhi koi khali.... Dil sy arsh tk bhra hai IshQ Aur tadbeer ko nahi kuch dakhal IshQ kay dard ki dawaa hai IshQ bohat khobsorat kalam thnx 4 sharing |
Re: ~ عشق ~ میر تقی میر ~
thanks
|
All times are GMT +5. The time now is 02:53 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.