![]() |
غزل کی پلکیں سوار لوں
ابھی اس طرف نہ نگاہ کر ؛ میں غزل کی پلکیں سوار لوں میرا لفظ لفظ ہو آئینہ ، تجھے آئینے میں اتار لوں میں تمام دیں کا تھکا ہوا ، تو تمام شب کی تھکی ہوئی ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر ، تیرے ساتھ شام گزار لوں اگر آسمان کی نمایشوں میں ، مجھے بھی اذن قیام ہو تو میں موتیوں کی دکان سے ، تیری بالیاں تیرے ہار لوں کی اجنبی تیری راه میں ، میرے پاس سے یوں گزر گئے جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی ، تیرا نام لیکر پکار لوں |
Re: غزل کی پلکیں سوار لوں
بہت عمدہ
بہت معیاری شاعری ہی |
Re: غزل کی پلکیں سوار لوں
maza agaya
kia ghazal hai bohat khoob |
Re: غزل کی پلکیں سوار لوں
Quote:
|
Re: غزل کی پلکیں سوار لوں
Quote:
|
All times are GMT +5. The time now is 05:35 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.