![]() |
وہاں محفل نہیں سجائی جہاں خلوت نہیں ک
وہاں محفل نہیں سجائی جہاں خلوت نہیں کی اس کو سوچا ہی نہیں جس سے محبّت نہیں کی اب کے بھی تیرے لئے جان سے گزر جائیں گے ہم ہم نے پہلے بھی محبّت میں سیاست نہیں کی تم سے کیا پایا وعدہ خلافی کی شکایت کر کے تم نے تو لوٹ آنے کی بھی زحمت نہیں کی دھڑکنیں سینوں سے آنکھوں میں سمٹ آئ تھیں وہ بھی خاموش تھا ہم نے بھی وضاحت نہیں کی ......گرد آئینہ ہٹائی کہ سچائی کھلے ورنہ تم جانتے ہو ،ہم نے بغاوت نہیں کی ....رات کو رات ہی اس بار کہا ہم نے ہم نے اس بار بھی توہین عدالت نہیں کی بس ہمیں عشق کی آشفتہ سری کھینچتی ہے رزق کے واسطے ہم نے کبھی ہجرت نہیں کی |
Re: وہاں محفل نہیں سجائی جہاں خلوت نہیں ک
Buht Khub
|
Re: وہاں محفل نہیں سجائی جہاں خلوت نہیں ک
thanks
|
All times are GMT +5. The time now is 11:56 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.