![]() |
میں سمجھ رہا ہوں تری نظر میں چھپا ہوا جو سوا
میں سمجھ رہا ہوں تری نظر میں چھپا ہوا جو سوال ہے تجھے دوستوں کا خیال ہے،مجھے دشمنوں کا ملال ہے تجھے بخت سے ہے گلہ مگر مجھے نارسائی کا غم نہیں میں ہوں ایک ایسے مقام پر جہاں ہجر موجِ وصال ہے یہ ترے قدم جو تجھے لئے میری سمت آئے کُشاں کُشاں نہیں مجھ میں کوئی ہنر نہیں،یہ تری طلب کا کمال ہے نہ تو اپنا طرز بدل سکی نہ ہمارے خواب میں ڈھل سکی کبھی اجنی کبھی آشنا،وہی گردشِ مہ و سال ہے وہ محبتوں کی کہانیاں،جو غبار بن کر بکھر گئیں انہیں رائیگاں نہ سمجھ انہی سے،جہانِ غم کا جمال ہے اک عجیب سرد سی لہر ہے،جو بدن سے روح تک آگئی نہ غبارِ غم نہ نشاطِ دل،کوئی خواب ہے نہ خیال ہے |
Re: میں سمجھ رہا ہوں تری نظر میں چھپا ہوا جو سو
Buht Khub
|
Re: میں سمجھ رہا ہوں تری نظر میں چھپا ہوا جو سو
Acha hai (y)
|
Re: میں سمجھ رہا ہوں تری نظر میں چھپا ہوا جو سو
thanks
|
All times are GMT +5. The time now is 02:23 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.