![]() |
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دی
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں میں نے تو سب حسابِ جاں برسرِ عام رکھ دیا اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلےسخن کہے میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ مے کشی رہی اس نے جو پھیر لی نظر میں*نے بھی جام رکھ دیا اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس کبکِ دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوشِ یار تھا اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا __________________ |
Re: اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دی
Buht Khub
|
Re: اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دی
بہت اچھی شرینگ ہے |
Re: اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دی
thanks
|
Re: اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دی
Nice...
|
All times are GMT +5. The time now is 07:42 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.