![]() |
Main Shaam YaadooN K JangalooN Main Guzaarta HoN k Kuch LikhooN ga (atif SaeeD)
میں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں‘ کہ کچھ لکھوں گا یہ شہر سارا ہی سو چکا ہے میں جاگتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا بہار رُت کے وہ خواب سارے جو میری پلکوں پہ آ سجے تھے! وہ خواب آنکھوں میں جل چکے ہیں میں جل رہا ہوں کہ کچھ لکھوں گا میں پچھلے موسم کی بارشوں کو پھر اپنی آنکھوں میں لا رہا ہوں! کہ اب کے ساون کی رُت میں‘ میں بھی یہ سوچتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا عجیب رُت ہے جدائیوں کی‘ عذاب دن ہیں عذاب راتیں میں چند مہمل سے لفظ لکھ کر یہ سوچتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا میں لفظ پلکوں سے چن رہا ہوں‘ میں خواب کاغذ پہ بُن رہا ہوں میں تیری آہٹ بھی سن رہا ہوں میں جانتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا وہ سارے رستے کہ جن پہ ہم تم چلے تھے چاہت کے سنگ عاطف میں اب جو اُن پر کبھی گیا تو یہ جانتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا __________________ |
Re: Main Shaam YaadooN K JangalooN Main Guzaarta HoN k Kuch LikhooN ga (atif SaeeD)
V Nice...
|
Re: Main Shaam YaadooN K JangalooN Main Guzaarta HoN k Kuch LikhooN ga (atif SaeeD)
aham Aham
Nice.. |
Re: Main Shaam YaadooN K JangalooN Main Guzaarta HoN k Kuch LikhooN ga (atif SaeeD)
Thankssss
|
Re: Main Shaam YaadooN K JangalooN Main Guzaarta HoN k Kuch LikhooN ga (atif SaeeD)
very nice
|
Re: Main Shaam YaadooN K JangalooN Main Guzaarta HoN k Kuch LikhooN ga (atif SaeeD)
thanks
|
All times are GMT +5. The time now is 09:22 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.