![]() |
اکیلے پن کی اذیتوں کو شمار کرنا بھی سیکھ لو
اکیلے پن کی اذیتوں کو شمار کرنا بھی سیکھ لو گے
کرو گے الفت تو روز جینا یہ روز مرنا بھی سیکھ لو گے کوئی ارادہ ابھی تخیل میں پھول بن کے مہک رہا ہے جب آسماں نے مزاج بدلا تو پھر بکھرنا بھی سیکھ لو گے محبتوں کے یہ سارے رستے ہی سہل لگتے ہیں ابتدا میں تم آج چل تو رہے ہو لیکن کہیں ٹھہرنا بھی سیکھ لو گے کسی خلش سے فریب کھا کر تم اپنے جیون کے راستوں سے نظر بدلتی ہوئی رتوں کی طرح گزرنا بھی سیکھ لو گے خمارِ قربت کے خود فراموش موسموں میں یونہی اچانک تم اپنی ہستی کی جان پہچان سے مکرنا بھی سیکھ لو گے یہ وصل کا بے ثبات موسم جدائیوں کو صدائیں دے گا حسن ذرا دیر زندہ رہنے کے بعد مرنا بھی سیکھ لو گے |
Re: اکیلے پن کی اذیتوں کو شمار کرنا بھی سیکھ لو
V Nice..
|
Re: اکیلے پن کی اذیتوں کو شمار کرنا بھی سیکھ لو
V Nice..
thanks FoR SharinG.... :):) |
Re: اکیلے پن کی اذیتوں کو شمار کرنا بھی سیکھ لو
Thanks
|
Re: اکیلے پن کی اذیتوں کو شمار کرنا بھی سیکھ لو
WoOoow
Nice ...!! |
Re: اکیلے پن کی اذیتوں کو شمار کرنا بھی سیکھ لو
very good
|
All times are GMT +5. The time now is 05:36 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.