![]() |
Tumhay hum yaad kartay hai
-------------------------------------------------------------------------------- تمہیں ہم یاد کرتے ہیں اگر ترکِ تعلق ہی وفاؤں کا تقاضا ہے خوشی سے بھول جانا تم وہ شب ڈھلے کی خاموشی میں میرے نام لکھے خط طویل ای میلز، وہ شعروں سے، پھولوں سے لدے سب کارڈ میرے موبائل پر وہ جگمگاتے پیار کے قصے وہ خوشبویات کی یادیں، وہ مہکی رات کی باتیں ادھورے سب فسانے وہ، ادھوری سب ملاقاتیں تمہیں میری اجازت ہے بھلا دو سارے وعدوں کو، مٹا دو ساری یادوں کو جلا دو میری سب نظمیں لوٹا دو پیار کے تحفے ۔۔۔۔ قلم ۔۔۔ جس پر تمہارا نام چاندی سے لکھایا تھا وہ ٹائی ۔۔۔ جو گلے کا ہار بن کے رہتی تھی اکثر کتابیں ۔۔ جو تمہاری خوابگاہ کی اب بھی زینت ہیں وہ سی ڈی ۔۔ جو تمہاری گاڑی میں اب بھی امانت ہیں رومالوں پر تمہارا نام ہم نے خود ہی کاڑھا تھا اگر ترکِ تعلق ہی وفاؤں کا تقاضا ہے سنو پھر آج ہی ،اس بے مہر ساعت کے سائے میں ہر اک شرطِ وفا سے ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں کہ خود ہی قتل ہوتے ہیں، کہ خود بے داد کرتے ہیں چلو دل پہ چٹاں رکھ کے گلستانِ محبت کو خود برباد کرتے ہیں تمہارا نام تک لیتے نہیں تنہائیوں میں ہم مگر اس دل کی دھڑکن کوبنا کر راز دار اپنا تمہیں ہم یاد کرتے ہیں __________________ |
Re: Tumhay hum yaad kartay hai
nice one........
|
Re: Tumhay hum yaad kartay hai
thanx deewani sis
|
Re: Tumhay hum yaad kartay hai
beautifull
|
Re: Tumhay hum yaad kartay hai
Nice...
|
Re: Tumhay hum yaad kartay hai
nice sharing
|
All times are GMT +5. The time now is 12:40 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.