![]() |
اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
اب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں شمعِ نظر، خیال کے انجم ، جگر کے داغ جتنے چراغ ہیں، تری محفل سے آئے ہیں اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں ہر اک قدم اجل تھا، ہر اک گام زندگی ہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ہیں بادِ خزاں کا شکر کرو، فیض جس کے ہاتھ نامے کہاں بہار شمائل سے آئے ہیں |
Re: اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
Very Nice
|
Re: اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
Very Niceee
|
Re: اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
nice.......
|
All times are GMT +5. The time now is 07:33 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.