![]() |
جنگل مجھ سے بات تو کر
جنگل مجھ سے بات تو کر جنگل مجھ سے بات تو کر دیکھ کہاں سے آیا ہوں ! سناٹا ہے چاروں جانب اور ہوا کی سرگوشی میں ٹوٹے ٹوٹے سے کچھ جملے رات گئے تک ہونے والی بارش کے قطروں کی صورت پتہ پتہ ٹپک رہے ہیں تین برس اور سولہ دن پہلے کی گُزری شام کوئی یہیں کہیں پر رُکی ہوئی ہے اور اک گہرے سایوں والے پیڑ پہ اب بھی ہم دونوں کے نام کھدے ہیں (اور اک دل ہے جس میں کوئی تیر ترازو تب سے ہے) جنگل، تیرے سامنے اُس دن ہم نے کتنی باتیں کی تھیں تجھ کو بھی وہ یاد تو ہوں گی سب نہ سہی پر تھوڑی تھوڑی یہ جو ہوا کی سرگوشیہے اس کے ٹوٹے جُملوں جیسی ابھی ابھی اس تھمنے والی بارش کے ان قطروں جیسی تین برس اور سولہ دن کا اک اک لمحہ لایا ہوں جنگل مجھ سے بات تو کر، دیکھ کہاں سے آیا ہوں |
Re: جنگل مجھ سے بات تو کر
wah Nice sharing
|
Re: جنگل مجھ سے بات تو کر
Very Nice
|
Re: جنگل مجھ سے بات تو کر
V Nice
|
All times are GMT +5. The time now is 01:03 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.