![]() |
کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ
کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا کہ جو میرے غم میں گھلا کیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا جو جمال روئے حیات تھا، جو دلیل راہ نجات تھا اسی راہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا کبھی اے عنایت کم نظر! تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی جو تبسم رخ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دیا |
Re: کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ
Hawww Nice
|
Re: کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ
very nice
|
Re: کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ
Very Nice
|
All times are GMT +5. The time now is 06:02 PM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.