![]() |
افسوس اس قوم پر جس کی
افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو جس کا فلسفی مداری ہو جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرےاور رخصت گالم گلوچ سے اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے. افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں. افسوس اس قوم پر جس کے رہنما جھوٹے ہوں اور دانا خاموش. افسوس، صد افسوس ان لوگوں کی قوم پر جو اپنے حقوق کو غصب ہونے دیتی ہے.
(خلیل جبران) |
Re: افسوس اس قوم پر جس کی
Very Nice Sharing
|
Re: افسوس اس قوم پر جس کی
Thanks
|
Re: افسوس اس قوم پر جس کی
Very Nice
|
All times are GMT +5. The time now is 01:58 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.