![]() |
ہمارے حال پر رویا دسمبر
ہمارے حال پر رویا دسمبر وہ دیکھو ٹوٹ کر برسا دسمبر گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر بھلا بارش سے کیا سیراب ہوگا تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر وہ کب بچھڑا، نہیں اب یاد لیکن بس اتنا علم ہے کہ تھا دسمبر یوں پلکیں بھیگتی رہتی ہیں جیسے میری آنکھوں میں آ ٹھہرا دسمبر جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی میری تنہائی اور میرا دسمبر |
Re: ہمارے حال پر رویا دسمبر
Nice..
|
Re: ہمارے حال پر رویا دسمبر
Quote:
|
Re: ہمارے حال پر رویا دسمبر
nice one .
|
Re: ہمارے حال پر رویا دسمبر
Very Nice
|
Re: ہمارے حال پر رویا دسمبر
Quote:
thnx ....... |
Re: ہمارے حال پر رویا دسمبر
Quote:
|
All times are GMT +5. The time now is 03:10 AM. |
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2025, Jelsoft Enterprises Ltd.