Log in

View Full Version : سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو


life
10-11-2012, 08:47 PM
وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھی
بہت خیال رکھا تھا ، بہت وفا کی تھی

سنا ہے ان دنوں ہم رنگ ہیں بہار اور آگ
یہ آگ پھول ہو میں نے بہت دعا کی تھی
...
نہیں تھا قرب میں بھی کچھ مگر یہ دل ، مرا دل
مجھے نہ چھوڑ ، بہت التجا کی تھی

سفر میں کشمکش مرگ و زیست کے دوران
نجانے کس نے مجھے زندگی عطا کی تھی

سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
یہ اور بات کہ اک خلق اشتراکی تھی

یہ ابتدا تھی کہ میں نے اسے پکارا تھا
وہ آ گیا تھا ظفر، اس نے انتہا کی تھی

(‘“*JiĢäR*”’)
10-13-2012, 11:43 AM
:bu:__

life
10-13-2012, 08:56 PM
thanks...

SHAYAN
10-14-2012, 09:56 PM
Zaberdast

life
10-15-2012, 04:20 PM
thanks........

Atta ur Rehman
10-15-2012, 05:48 PM
bohat umda g

~~KING~~
10-24-2012, 01:42 AM
very nyc......:bu:..:zabardast:

life
10-24-2012, 10:08 PM
thanks Atta

life
10-24-2012, 10:08 PM
thanks king..

Copyright ©2008
Powered by vBulletin Copyright ©2000 - 2009, Jelsoft Enterprises Ltd.