ROSE
05-03-2011, 04:56 PM
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 39 حدیث مرفوع
عمروبن خالد، زہیر، ابو اسحاق ، براءبن عازب سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب ہجرت کرکے) مدینہ تشریف لائے تو پہلے اپنے ننہال میں، جو انصار تھے، ان کے ہاں اترے اور آپ نے (مدینہ کے بعد) سولہ مہینے یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی، مگر آپ کو یہ اچھا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف ہو جائے (چناچہ ہوگیا) اور سب سے پہلی نماز جو آپ نے (کعبہ کی طرف) پڑھی عصر کی نماز تھی اور آپ کے ہمراہ کچھ لوگ نماز میں تھے ان میں سے ایک شخص نکلا اور کسی مسجد کے لوگوں پر اس کا گذر ہوا اور وہ (بیت المقدس کی طرف) نماز پڑھ رہے تھے، تو اس نے کہا کہ میں اللہ تعالی کو گواہ کرکے کہتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے (یہ سنتے ہی) وہ لوگ جس حالت میں تھے، اسی حالت میں کعبہ کی طرف گھوم گئے اور جب آپ بیت المقدس کی طرف نماز پڑہتے تھے، یہود اور جملہ اہل کتاب بہت خوش تھے، مگر جب آپ نے اپنا منہ کعبہ کی طرف پھیر لیا تو یہ ان کو ناگوار ہوا، زہیر (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں کہ ہم سے ابواسحاق نے براء سے اس حدیث میں یہ نقل کیا کہ تحویل قبلہ سے پہلے اسی قدیم قبلہ پر کچھ لوگ مر چکے تھے، ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ ان کے متعلق کیا خیال کیا جائے اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت (وَمَا کَانَ اللہُ لِیُضِیعَ اِیمَانَکُم) نازل فرمائی۔
عمروبن خالد، زہیر، ابو اسحاق ، براءبن عازب سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب ہجرت کرکے) مدینہ تشریف لائے تو پہلے اپنے ننہال میں، جو انصار تھے، ان کے ہاں اترے اور آپ نے (مدینہ کے بعد) سولہ مہینے یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی، مگر آپ کو یہ اچھا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف ہو جائے (چناچہ ہوگیا) اور سب سے پہلی نماز جو آپ نے (کعبہ کی طرف) پڑھی عصر کی نماز تھی اور آپ کے ہمراہ کچھ لوگ نماز میں تھے ان میں سے ایک شخص نکلا اور کسی مسجد کے لوگوں پر اس کا گذر ہوا اور وہ (بیت المقدس کی طرف) نماز پڑھ رہے تھے، تو اس نے کہا کہ میں اللہ تعالی کو گواہ کرکے کہتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے (یہ سنتے ہی) وہ لوگ جس حالت میں تھے، اسی حالت میں کعبہ کی طرف گھوم گئے اور جب آپ بیت المقدس کی طرف نماز پڑہتے تھے، یہود اور جملہ اہل کتاب بہت خوش تھے، مگر جب آپ نے اپنا منہ کعبہ کی طرف پھیر لیا تو یہ ان کو ناگوار ہوا، زہیر (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں کہ ہم سے ابواسحاق نے براء سے اس حدیث میں یہ نقل کیا کہ تحویل قبلہ سے پہلے اسی قدیم قبلہ پر کچھ لوگ مر چکے تھے، ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ ان کے متعلق کیا خیال کیا جائے اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت (وَمَا کَانَ اللہُ لِیُضِیعَ اِیمَانَکُم) نازل فرمائی۔