View Full Version : poetry
aasma jee
12-08-2013, 10:02 PM
یہ قوس قزح ہے اور وہ تارے ہیں
غم ہائے نشاط کے یہ سب مارے ہیں
امید کے خوشنما پھولوں کو نہ چھُو
تو پھول سمجھتا ہے یہ انگارے ہیں
aasma jee
12-08-2013, 10:04 PM
ﮨﺮ ﺩﺭﺩ ﭘﮩﻦ ﻟﯿﻨﺎ ، ﮨﺮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﻧﺎ
ﮐﯿﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮨﮯ ، ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ
ﺍﮎ ﺷﮩﺮ ﺑﺴﺎ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ
ﭘﮭﺮ ﺷﺐ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻮ ﺟﺎﻧﺎ
ﻣﻮﺿﻮﻉِ ﺳﺨﻦ ﮐﭽﮫ ﮨﻮ ، ﺗﺎ ﺩﯾﺮ ﺍﺳﮯ ﺗﮑﻨﺎ
ﮨﺮ ﻟﻔﻆ ﭘﮧ ﺭﮎ ﺟﺎﻧﺎ ، ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﻧﺎ
ﺁﻧﺎ ﺗﻮ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﮏ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﮐﻠﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺳﮯ ﭼﺒﮭﻮ ﺟﺎﻧﺎ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﭗ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﻥ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ
ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺗﮑﻠﻢ ﺳﮯ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﮕﻮ ﺟﺎﻧﺎ
ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﺁﻧﺎ ﺍﻥ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﺎ
ﺍﮎ ﻟﻤﺲ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻮ ﺟﺎﻧﺎ
ﮨﺮ ﺷﺎﻡ ﻋﺰﺍﺋﻢ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﺤﻞ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﻨﺎ
ﮨﺮ ﺻﺒﺢ ﺍﺭﺍﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﭘﮧ ﺳﻮ ﺟﺎﻧﺎ
aasma jee
12-08-2013, 10:04 PM
حالات کے قدموں ٍ پہ قلندر نہیں گرتا
حالات کے قدموں ٍ پہ قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
سمجھو وہاں پھلدار شجر کوئی نہیں ہے
وہ صحن کہ جِس میں کوئی پتھر نہیں گرتا
اِتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی سے
اِس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا
انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی
اتنا تو کبھی کوئی سخنور نہیں گرتا
حیراں ہے کوئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی
تالاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا
اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایا
جو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر نہیں گرتا
کرنا ہے جو سر معرکۂ زیست تو سُن لے
بے بازوئے حیدر، درِ خیبر نہیں گرتا
قائم ہے قتیل اب یہ میرے سر کے ستوں پر
بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا
Copyright ©2008
Powered by vBulletin Copyright ©2000 - 2009, Jelsoft Enterprises Ltd.