حضرت نظام الدین اولیاءؒ - MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community

MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community


Please Read :: New Members Require 15 Reply Post to make their Own Threads Thanks (AYAZ) ::

MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community » Islam » Say For Islam » حضرت نظام الدین اولیاءؒ
Say For Islam !!!!Share Say For Islam!!!!

Advertisement
User Tag List

Post New Thread  Reply
 
Thread Tools Display Modes
(#1)
Old
nazeer1 nazeer1 is offline
nazeer1 is iam back
Points: 20,025, Level: 89 Points: 20,025, Level: 89 Points: 20,025, Level: 89
Level up: 35% Level up: 35% Level up: 35%
Activity: 27% Activity: 27% Activity: 27%
 


Posts: 670
My Photos: (500)
Country:
My Mood:
Thanks: 4
Thanked 149 Times in 129 Posts
Mentioned: 0 Post(s)
Tagged: 617 Thread(s)
Quoted: 18 Post(s)
Join Date: Nov 2014
Gender: Male
rs حضرت نظام الدین اولیاءؒ - >>   Show Printable Version  Show Printable Version   Email this Page  Email this Page   09-21-2018, 11:06 AM

حضرت نظام الدین اولیاءؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے

"ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا،
ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا"۔

اتنا فرما کر پھر غش کھا جاتے.

ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا:

"حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟"

آپؒ نے فرمایا:

"ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے
اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر استری کرکے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے،

ان کا ایک بیٹا بھی تھا.
جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا،
کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے،
جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا.

محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد
اس کے اطوار تبدیل ہو گئے،
وہ شہزادی کے کپڑے الگ کرتا،
انہیں خوب اچھی طرح دھوتا،
انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کرکے رکھتا.

سلسلہ چلتا رہا.

آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا
اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ
یہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا،
یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے،
والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی،

ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا،
محبت کا بخار نکلتا رہتا تھا،
مگر
جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیا
تو لڑکا بیمار پڑ گیا
اور چند دن کے بعد فوت ہو گیا۔

ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلا
تو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا،
اور اس سے پوچھا کہ
میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟

دھوبن نے جواب دیا:
شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں،

شہزادی نے کہا:
پہلے کون دھوتا تھا؟

دھوبن نے کہا:
میں ہی دھوتی تھی.

شہزادی نے اسے کہا:
یہ کپڑا تہہ کرو.

اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا.

شہزادی نے اسے ڈانٹا:
تم جھوٹ بولتی ہو،
سچ سچ بتاؤ ورنہ سزا ملے گی.

دھوبن کے سامنے کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں تھا.
کچھ دل بھی غم سے بھرا ہوا تھا،
وہ زار و قطار رونے لگ گئی،
اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ دیا.

شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی۔

پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا
اور شاہی بگھی میں سوار ہو کر
پھولوں کا ٹوکرا بھر کر لائی،
اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے.

زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا
کہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پر
اس کی قبر پر پھول چڑھانے ضرور آتی۔

یہ بات سنانے کے بعد حضرت کہتے:

"اگر ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہوسکتی ہے
تو بھلا اللہ سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہو سکتی؟"

"ایک انسان سے محبت اگر انسان کے مزاج میں تبدیلی لا سکتی ہے
اور وہ اپنی پوری صلاحیت اور محبت اس کے کپڑ ے دھونے میں بروئےکار لا سکتا ہے
تو کیا ہم لوگ اللہ سے اپنی محبت کو اس کی نماز پڑھنے میں اسی طرح دل وجان سے نہیں استعمال کر سکتے؟"
مگر ہم بوجھ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر شہزادی محبت سے تہہ شدہ کپڑوں کے انداز کو پہچان سکتی ہے،
تو کیا رب کریم بھی محبت سے پڑھی گئی نماز اور پیچھا چھڑانے والی نماز کو سمجھنے سے عاجز ہے؟"

حضرت نظام الدین اولیاءؒ پھر فرماتے:
"وہ دھوبی کا بچہ اس وجہ سے کامیاب ہے
کہ اس کی محبت کو قبول کر لیا گیا.
جبکہ ہمارے انجام کا کوئی پتہ نہیں،
قبول ہوگی یا منہ پر ماردی جائے گی...
اللہ جس طرح ایمان اور نماز روزے کا مطالبہ کرتا ہے،
اسی طرح محبت کا تقاضا بھی کرتا ہے.
یہ کوئی مستحب نہیں فرض ہے.
مگر ہم غافل ہیں."

پھر فرماتے:

"اللہ کی قسم
اگر یہ نمازیں نہ ہوتیں
تو اللہ سے محبت کرنے والوں کے دل اسی طرح پھٹ جاتے
جس طرح دھوبی کے بچے کا دل پھٹ گیا تھا.
یہ ساری ساری رات کی نماز ایسے ہی نہیں پڑھی جاتی.
کوئی جذبہ کھڑا رکھتا ہے."

آپ فرماتے:
"یہ نسخہ اللہ پاک نے اپنے نبی کے دل کی حالت دیکھ کر بتایا تھا
کہ آپ نماز پڑھا کیجئے،
اور رات بھر ہماری باتیں دہراتے رھا کیجئے،
آرام ملتا رہے گا"__________اللہ پاک ہمیں خضوع خشوع سے عبادات ربانی کی توفیق دے ۔ آمین

 

Reply With Quote Share on facebook
Sponsored Links
Post New Thread  Reply

Bookmarks

Tags
حضرت, نظام

Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
ضیاء الاسلام انصاری کی کتاب منزل مراد سے ا Rania Urdu Literature 1 12-28-2014 07:19 PM
مرزاغلام احمد قادیانی کے حالات (گڑ اور ڈھی bint-e-masroor Say For Islam 1 10-01-2014 02:36 PM
رحمۃ للعالمین- از ابو الکلام آزادؒ life Quran 29 10-31-2012 02:35 PM
اولیاء اللہ کون؟ شیخ توصیف الرحمن الراشدی mcitp-it Other's Ulama Bayans 0 05-30-2012 02:46 PM
اسلام کے عظیم ترین جرنل حضرت خالد بن ولید - ر& ~ABDULLAH~ Islamic Issues And Topics 7 07-19-2010 01:34 PM


All times are GMT +5. The time now is 05:59 PM.
Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2018, Jelsoft Enterprises Ltd.

All the logos and copyrights are the property of their respective owners. All stuff found on this site is posted by members / users and displayed here as they are believed to be in the "public domain". If you are the rightful owner of any content posted here, and object to them being displayed, please contact us and it will be removed promptly.

Nav Item BG