MeraForum Community.No 1 Pakistani Forum Community - View Single Post - خلافتِ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
View Single Post
(#1)
Old
life life is offline
 


Posts: 32,565
My Photos: ()
Country:
Star Sign:
Join Date: Aug 2008
Gender: Female
Default خلافتِ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ - >>   Show Printable Version  Show Printable Version   Email this Page  Email this Page   08-26-2012, 01:52 AM

خلافتِ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ


خلافتِ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
ضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسلمانوں کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ مسلمانوں کا خلیفہ کسے بنایا جائے۔ بیہقی شریف میں ہے کہ خلافت کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے صحابہ کرام حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے دولت خانے پر جمع ہوئے اور متفقہ طور پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ مقرر کردیا۔ تمام مہاجر و انصار صحابہ نے آپ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر منبر پر کھڑے ہوکر مسلمانوں کے مجمع پر نظر ڈالی تو اس مجمع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور چچازاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان دونوں صحابہ کو بلوایا اور آپ نے فرمایا کہ آپ حضور کے خاص صحابیوں میں سے ہیں اور اُمید کرتا ہوں کہ آپ مسلمانوں میں اختلاف پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ سُن کر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا اے خلیفہء رسل آپ ہرگز فکر نہ کریں اور آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی یہی جواب دیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ (تاریخ الخلفاء)
مسلمانو ! سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی 2 سال 3ماہ تک خلافت رہی۔ آپ نے اپنے دورِ خلافت میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی۔ آپ کا دور اسلامی تاریخ کا سُنہری دور تھا۔ آپ نے اپنے منصب کا کبھی غلط استعمال نہیں کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سے ہی اسلام دشمن یہود و نصارٰی اس کوشش میں رہے کہ کسی طرح مسلمانوں کا شیرزاہ بکھر جائے۔ وہ اس تاک میں لگے رہے کہ کوئی ایسی کمزوری ہاتھ لگے جو مسلمانوں میں اختلاف کا سبب بن جائے۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد اسلام دشمن قوتوں نے اہلبیت اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان نفرت پیدا کرنا چاہی اور یہ الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے دورِ خلافت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں چھوڑے ہوئے باغ فدک کو غصب کرلیا اور حضور کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا۔ اسلام دشمن قوتوں کا یہ اعتراض مسلمانوں میں انتشار برپا کرنے کے لئے ہے۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ خاتونِ جنّت حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا دنیا کے مال و اسباب کو حقیر سمجھتی تھیں۔ اور دنیا کے اسباب کی ان کے سامنے کوئی حیثیت نہ تھی۔ وہ تو اپنا سب کچھ راہِ خدا میں لٹا دینے والی تھیں۔ باغ فدک سے متعلق اسلام دشمن قوتوں کے اعتراض کا جواب یہاں صرف اس لئے دیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو گُمراہی سے بچایا جا سکے۔ اسلام دشمن قوتوں کے اس اعتراض کی روشنی میں پہلے یہ جاننا ہوگا کہ “باغ فدک“ کیا ہے تاکہ اس اعتراض کے صحیح اور غلط کا اندازہ ہوسکے۔
مدینہ منورہ سے تقریباً ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر خیبر کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام فدک ہے اس گاؤں پر یہودیوں کا قبضہ تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے کے بعد جب لشکر اسلام کے ہمراہ واپس آ رہے تھے تو راستے میں اہل فدک کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے حضور نے محیصہ بن مسعود انصاری صحابی کو تبلیغ کے لئے بھیجا۔ یہودیوں نے صُلح کے طور پر فدک کی آدھی زمین مسلمانوں کو دے دی اس وقت یہ باغ اسلامی سلطنت میں شامل ہو گیا۔ یہ باغ کھجور کی پیداوار، ٹھنڈے پانی کے چشمے اور اناج وغیرہ کے لئے مشہور تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آمدنی اہل بیت اور مسافروں پر خرچ کرتے ایک حصّہ ازواج مطہرات کے لئے سال میں استعمال کیلئے دیتے اور جو رقم بچ جاتی اسے غریب و ناداروں میں تقسیم فرما دیتے۔
مسلمانو ! بعض اسلام دشمن قوتیں علم سے نا آشنا مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ پروپیگنڈہ کرتی ہیں کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں باغ فدک پر قبضہ کرلیا اور اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کو ان کے وارث اہل بیت کو نہیں دیا۔ حضور کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد مکرم کی میراث کا مطالبہ نہیں کیا اور کہنے لگیں کہ فدک تو ہمارا ہے رسول اللہ ہمیں دے کر گئے ہیں لیکن حضرت ابو بکر صدیق نے فدک دینے سے منع کردیا۔ اس طرح خاتونِ جنّت بی بی فاطمہ ان سے شدید ناراض ہوئیں اور جیتے جی ان سے گفتگو نہیں کی اور جب ان کے انتقال کا وقت آیا تو انہوں نے یہ وصیت کی کہ میرے جنازے میں ابو بکر کو شریک نہ کیا جائے۔ اس طرح ابو بکر نے حضور کی لاڈلی بیٹی کو ناراض کیا اور ان کو اذیّت دی حضور کا تو یہ فرمان ہے کہ فاطمہ کی اذیّت سے مجھے بھی اذیت ہوتی ہے۔ لٰہذا ابو بکر نے بی بی فاطمہ کو ہی ناراض نہیں کیا بلکہ پیغمبر اسلام کو بھی ناراض کر دیا۔
یہ وہ اعتراض ہے جسے اسلام دشمن قوتوں نے اٹھایا تھا جسے آج بھی ان کے آلہ کار اٹھاتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔
یاد رکھئے ! انبیاء کرام کی وراثت درہم و دینار اور دنیا کی جائیداد ہرگز نہیں ہوتی بلکہ ان کی میراث شریعت کا علم ہے۔ انبیاء دنیا میں نہ کوئی جائداد چھوڑتے ہیں اور نہ اس کا کسی کو اپنا وارث بناتے ہیں۔ جو کچھ بھی وہ دنیا میں چھوڑتے ہیں سب صدقہ کر جاتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
ہم گروہ انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہے۔ (ملاحظہ کیجئے مسلم شریف، بخاری شریف، مشکوٰۃ صفحہ 550)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد حضور کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ذریعے حضور کے مال سے اپنا حصہ تقسیم کروالیں تو اس موقع پر اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا “کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ہم کسی کو اپنے مال کا وارث نہیں بناتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے۔ (مسلم شریف جلد دوم صفحہ 91)
معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوڑا ہوا مال اہل خانہ کے لئے جائز نہیں کیونکہ وہ مال صدقہ ہے۔ اگر وہ مال جائز ہوتا تو جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا پھر اس کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا دروِ خلافت آیا تو باغ فدک ان کے اختیار میں بھی رہا مگر ان میں سے کسی نے بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عبّاس رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کو باغ فدک میں سے حصّہ نہیں دیا جس سے یہ واضح ہو گیا کہ نبی کے ترکہ میں وراثت نہیں ہوتی اور اہل بیت کے لئے اس کا حصّہ لینا جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغِ فدک نہیں دیا۔ کیونکہ ان کے لئے وہ جائز نہیں۔ لٰہذا جو لوگ فدک کے واقعہ کو آڑ بنا کر سیدنا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو غاصب کہتے ہیں وہ خود غاصب جھوٹے اور صحابی کی شان میں توہین کرنے والے ہیں لٰہذا مسلمانوں کو ایسے باطل اور غلط نظریات رکھنے والے گمراہوں سے دُور رہنا چاہئیے۔

 

Reply With Quote Share on facebook
Sponsored Links